سعودی اسپتال کی ایک غلطی، دو خاندان 4 سال تک ایک دوسرے کے بچوں کی پرورش کرتے رہے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ضیاءچترالی ایف بی پیج

سعودی عرب کے شہر نجران میں پیش آنے والے ایک حیران کن واقعے نے دو خاندانوں کو برسوں تک جذباتی آزمائش میں مبتلا رکھا۔ کنگ خالد جنرل اسپتال میں پیدائش کے بعد دو نومولود بچے غلطی سے آپس میں تبدیل ہوگئے، جس کا انکشاف 4 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہوا۔

صحافی ضیاء چترالی کے مطابق 7 ستمبر 2003 کو نجران کے کنگ خالد جنرل اسپتال میں دو بچوں کی پیدائش ہوئی۔ ایک بچہ سعودی شہری محمد المنجم کے خاندان سے تھا، جبکہ دوسرا ترک شہری یوسف جاوید کے گھر پیدا ہوا تھا۔ اسپتال کے عملے کی مبینہ انسانی غلطی کے باعث دونوں نومولود بچوں کو غلط خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی خاندان ترک بچے کو اپنا بیٹا سمجھ کر پرورش کرتا رہا، جبکہ ترک خاندان سعودی بچے کو اپنا حقیقی بیٹا سمجھ کر ترکی لے گیا۔ چار سال تک دونوں خاندان محبت، شفقت اور خلوص کے ساتھ ان بچوں کی پرورش کرتے رہے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ترک والد یوسف جاوید کو بچے کی شکل و صورت اور جسمانی خدوخال میں خاندان سے فرق محسوس ہونے لگا۔ شک بڑھنے پر انہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا، جس کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔

ڈی این اے رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ جس بچے کو یوسف جاوید چار سال سے اپنا بیٹا سمجھ رہے تھے، وہ ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔ اس انکشاف کے بعد وہ سعودی عرب پہنچے اور اسپتال انتظامیہ کو معاملے سے آگاہ کیا۔

سعودی حکام نے تحقیقات شروع کیں، اسپتال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا اور دونوں خاندانوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے۔ تحقیقات کے بعد تصدیق ہوگئی کہ دونوں بچے پیدائش کے وقت غلطی سے تبدیل ہوگئے تھے۔

بچوں کی منتقلی کے لیے ماہرین نفسیات کی مدد

معاملہ سامنے آنے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ چار سال تک جن بچوں کی پرورش کی گئی، انہیں اچانک حقیقی والدین کے حوالے کیسے کیا جائے۔ سعودی حکام نے بچوں اور خاندانوں کی ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نفسیات کی مدد حاصل کی۔

ماہرین کے مشورے پر دونوں خاندانوں کو ایک عرصے تک ساتھ رکھا گیا تاکہ بچے اپنے حقیقی والدین سے مانوس ہو سکیں اور اچانک جدائی کا صدمہ کم ہو۔ ایک سال کے بعد دونوں بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ واقعہ انسانی غلطی کے سنگین نتائج کے ساتھ ساتھ محبت، تربیت اور جذباتی وابستگی کی ایک مثال بھی بن گیا۔ دونوں خاندانوں کے درمیان احترام کا رشتہ برقرار رہا اور دونوں بچے بھی ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہوئے رابطے میں رہے۔

Related Posts