بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں ایک کم عمر اقلیتی دلت لڑکی کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے الزام میں پولیس کے دو کانسٹیبلز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واقعہ مبینہ طور پر 22 جولائی کو پیش آیا، جبکہ متاثرہ لڑکی نے اگلے روز جہانگیرآباد تھانے میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو فوری گرفتار کر لیا گیا۔
بھوپال کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (امن و امان) شیلیندر سنگھ چوہان نے ملزمان کی شناخت کانسٹیبل سنتوش سین اور جتیندر سنگھ کے نام سے کی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان محکمہ پولیس میں تعینات اہلکار ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر کم عمر لڑکی کو فون کر کے بلایا اور گاڑی میں اپنے ساتھ لے گئے۔
تفتیش سے واقف ایک پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر لڑکی کو یہ کہہ کر ورغلایا کہ وہ اسے سالگرہ کی تقریب میں لے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں وہ اسے ایک سنسان مقام پر لے گئے، جہاں الزام ہے کہ سنتوش سین نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔ واقعے کے بعد دونوں ملزمان لڑکی کو شہر کے ایک چوک پر چھوڑ کر چلے گئے۔
متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اس وقت اپنے گھر پر ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔
پولیس نے مقدمہ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (POCSO)، درج فہرست ذاتوں اور قبائل (ظلم و ستم کی روک تھام) ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات، بشمول دفعہ 137(2)، کے تحت درج کیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








