راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل نے ان کے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ حنا ایک متحرک پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی تھیں، اپنے والدین کے بہت قریب تھیں اور مستقبل کے لیے پرامید تھیں، قتل کیس کی تفتیش کے دوران نئے انکشافات بھی سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کو 20 اگست کو لال کرتی کے عسکری اپارٹمنٹس میں واقع اپنے گھر سے مردہ حالت میں پایا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران ابتدائی طور پر اسے قتل کا کیس قرار دیا ہے کیونکہ تفتیش سے خودکشی کی تصدیق نہیں ہوتی۔
حنا کی کزن صباح بانو ملک کے مطابق حنا تقریباً روزانہ اپنے والدین سے ملنے جاتی تھیں۔ ان کی والدہ الزائمر کے مرض کے ایڈوانس مرحلے میں جبکہ والد پارکنسنز کے مریض ہیں، اسی لیے حنا ان کے ساتھ خاصا وقت گزارتی تھیں۔ خاندان کو کسی ایسے خطرے کا علم نہیں تھا جس سے اس سانحے کا اندازہ ہو سکتا۔
ماضی میں حنا کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی اور اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حنا جاوید پر شوہر کی جانب سے کسی جسمانی تشدد کا علم نہیں، تاہم مبینہ مقتولہ حنا جاوید نے قریبی افراد سے اپنے شوہر کے غصے والے مزاج کا ذکر کیا تھا اور وہ اس کے ردِعمل سے بچنے کے لیے محتاط رہتی تھیں۔
حنا کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق گھر پہنچنے پر حنا کی لاش باتھ روم سے ملی، ان کے ہاتھ بندھے، منہ پر کپڑا اور گردن کے قریب تار لپٹی ہوئی تھی۔ مقدمے میں شوہر فیصل اصغر امام، گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں نامزد افراد کو گرفتار کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
پولیس فرانزک شواہد، موبائل فون ریکارڈ اور دیگر ثبوتوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جسم پر متعدد زخموں کے نشانات سامنے آئے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ مزید فرانزک رپورٹس کے بعد واضح ہوگی۔ اہلِ خانہ کے مطابق حنا کو شادی ہوئے ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا، وہ کیریئر میں آگے بڑھ رہی تھیں اور حال ہی میں انہیں ترقی بھی ملی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








