پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز BIGO LIVE اور Likee کو پاکستان میں باضابطہ رجسٹر کرلیا ہے تاہم اس پیش رفت کے ساتھ ہی آن لائن مواد کی نگرانی، صارفین کے تحفظ اور ماضی میں سامنے آنے والی شکایات کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق دونوں پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن بائگو سروس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے تحت کی گئی ہے۔ یہ اقدام غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے اور بلاک کرنے سے متعلق 2021 کے قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔
The Pakistan Telecommunication Authority (PTA) has formally registered BIGO LIVE and Likee platforms in Pakistan under Bigo Service Pakistan (Pvt.) Ltd., in accordance with the Removal and Blocking of Unlawful Online Content (Procedure, Oversight and Safeguards) Rules, 2021.
PTA look forward to strengthening its collaboration with BIGO to enhance content moderation mechanisms, promote responsible platform use, and ensure continued compliance with Pakistan’s applicable laws.#PTA #BIGO #BigoLIVE #Likee #DigitalPakistan #ResponsibleDigitalUse #OnlineSafety #ContentModeration #DigitalResponsibility #SocialMediaSafety #DigitalTrust #CyberSafety #Pakistan #RegulatoryCompliance #SafeDigitalSpace
— PTA (@PTAofficialpk) November 4, 2026
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے بعد BIGO کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا جبکہ آن لائن مواد کی نگرانی، غیر مناسب سرگرمیوں کی روک تھام اور پلیٹ فارم کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق اس اشتراک کا بنیادی مقصد پاکستان میں نافذ قوانین اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانا اور صارفین کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔
BIGO LIVE ماضی میں تنازعات کی زد میں کیوں رہا؟
BIGO LIVE دنیا بھر میں لائیو ویڈیو نشریات، آن لائن چیٹنگ اور براہ راست صارفین سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے والا معروف پلیٹ فارم ہے، تاہم اس پر ماضی میں قابل اعتراض، غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی موجودگی کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
ناقدین کا موقف رہا ہے کہ بعض صارفین لائیو نشریات کے دوران نامناسب لباس، غیر شائستہ گفتگو اور قابل اعتراض حرکات کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض حلقوں نے ورچوئل تحائف اور مالی فوائد کے حصول کے لیے بھی نامناسب مواد پیش کیے جانے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس پلیٹ فارم کو ماضی میں ضابطہ جاتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جولائی 2020 میں پی ٹی اے نے غیر اخلاقی، فحش اور نامناسب مواد سے متعلق شکایات پر BIGO LIVE کو عارضی طور پر بلاک کردیا تھا۔
تاہم کمپنی کی جانب سے مواد کی نگرانی بہتر بنانے اور قابل اعتراض سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کے بعد اسی ماہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔
کم عمر صارفین کے لیے کیا خطرات ہوسکتے ہیں؟
ڈیجیٹل تحفظ کے ماہرین کے مطابق لائیو اسٹریمنگ ایپلی کیشنز پر کھلے چیٹ رومز، اجنبی افراد سے براہ راست رابطے اور ورچوئل کرنسی و تحائف کے نظام کے باعث کم عمر صارفین کو مختلف آن لائن خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ان میں سائبر ہراسانی، نامناسب مواد تک رسائی، اجنبی افراد کی جانب سے نامناسب رابطوں کی کوششیں اور آن لائن استحصال جیسے خدشات شامل ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مناسب نگرانی رکھیں اور انہیں آن لائن رازداری، ذاتی معلومات کے تحفظ اور نامعلوم افراد سے رابطے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں۔
پلیٹ فارم کے اپنے قواعد کیا کہتے ہیں؟
BIGO LIVE کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مطابق پلیٹ فارم پر عریانی، فحش مواد، جنسی نوعیت کے قابل اعتراض مناظر اور معاوضے کے عوض جنسی خدمات کی تشہیر کی اجازت نہیں ہے۔
کمپنی کے مطابق مواد کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اور انسانی ماڈریٹرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو چوبیس گھنٹے پلیٹ فارم پر ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی، صارفین کی شکایات کا جائزہ اور بار بار خلاف ورزی کرنے والے صارفین کی رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان انتظامات کا مقصد کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد اور پلیٹ فارم کو غیر مناسب مواد سے پاک رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
رجسٹریشن کے بعد پی ٹی اے کے لیے اصل امتحان کیا ہوگا؟
BIGO LIVE اور Likee کی پاکستان میں باضابطہ رجسٹریشن کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ حکومتی روابط مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
اس عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں پلیٹ فارمز پاکستانی قوانین پر کس حد تک عمل کرتے ہیں، صارفین کی شکایات کا ازالہ کیسے کیا جاتا ہے اور غیر قانونی یا قابل اعتراض مواد کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
خصوصاً BIGO LIVE کے ماضی کے تنازعات کے تناظر میں اس بات کو اہمیت حاصل ہوگی کہ کمپنی اپنی سابقہ یقین دہانیوں کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کرتی ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے رجسٹریشن کے بعد اب توقع کی جارہی ہے کہ پلیٹ فارمز کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان میں محفوظ، ذمہ دارانہ اور قانون کے مطابق ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینے کی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








