امریکی سینیٹ میں نئی تاریخ رقم! کرس پاپاس پہلے ہم جنس پرست سینیٹر بن گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کرس پاپاس نیو ہیمپشائر سے سینیٹر منتخب ہوکر امریکا کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست سینیٹر بن گئے ہیں۔

46 سالہ یونانی نژاد امریکی سیاست دان نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار جان سونونو کو شکست دی اور 56.20 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

کرس پاپاس نے 4 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی کامیابی کو سب کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 579 روز تک نیو ہیمپشائر کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم چلائی اور عوام سے براہ راست رابطہ رکھا۔

دوسری جانب ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو بھی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ انتخابی نتائج پر مہنگائی، بڑھتی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق عوامی تحفظات کے اثرات بھی نمایاں رہے۔

یونانی خاندان سے امریکی سیاست تک

کرس پاپاس نیو ہیمپشائر کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ ان کا خاندانی تعلق یونان کے علاقے تھیسالی کے گاؤں لیواڈی سے ہے۔ ان کے پردادا بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا منتقل ہوئے تھے، جہاں خاندان نے چھوٹا کاروبار شروع کیا۔

پاپاس نے مانچسٹر سینٹرل ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1998 میں ہارورڈ کالج میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے خاندان کے ریسٹورنٹ میں بھی کام کیا۔

سیاسی سفر کے دوران وہ نیو ہیمپشائر ایگزیکٹو کونسل کے رکن رہے جبکہ 2018 میں امریکی ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہوکر ریاست کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست کانگریس رکن بنے۔ انہوں نے 2019 سے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کی۔

کانگریس میں ان کی توجہ متوسط اور محنت کش خاندانوں کے لیے ٹیکس میں ریلیف، چھوٹے کاروباروں کی معاونت، پانی کے وسائل کے تحفظ اور ادویات کی قیمتوں میں کمی جیسے معاملات پر رہی۔

کرس پاپاس اپنے شوہر وان کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا سینیٹ کے لیے انتخاب امریکی سیاست میں نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

Related Posts