اسرائیلی وزیر اعظم بننے کا فیصلہ! ٹرمپ امریکا چھوڑ کر اسرائیل منتقل ہوجائیں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک غیر معمولی بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکی عوام کبھی ان سے تنگ آگئے تو وہ اسرائیل منتقل ہوکر وہاں وزیراعظم بننے پر غور کرسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ممکنہ مستقبل سے متعلق دلچسپ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں لوگ ان سے اکتا گئے تو وہ اسرائیل چلے جائیں گے اور وہاں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں گے۔

امریکی صدر کے اس بیان کو خبر رساں ویب سائٹ ٹی ایم زیڈ (TMZ) نے رپورٹ کیا۔ ٹرمپ کے بقول اگر امریکا میں لوگ کبھی مجھ سے تنگ آگئے تو میں اسرائیل منتقل ہوجاؤں گا اور وزیراعظم بن جاؤں گا۔

ان کا یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس خیال کو غیر معمولی اور حیران کن قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے طنزیہ انداز میں ان کے ممکنہ اسرائیل منتقل ہونے پر تبصرے کیے۔

سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرنے والے صارفین نے اسے طنز و مزاح کا موضوع بنالیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ امریکی عوام پہلے ہی ان سے تنگ ہیں اس لیے انہیں امریکا چھوڑ دینا چاہیے۔

ایک اور صارف نے مذاقاً کہا کہ وہ ٹرمپ کے سفر کی تیاری میں ان کے بیگ پیک کرنے میں بھی مدد کرسکتا ہے۔

اسی طرح ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ انہیں ایسی پیشکش سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا جبکہ ایک دوسرے صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ افسوس ٹرمپ اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔

بعض دیگر صارفین نے بھی انہیں اسرائیل منتقل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ انہیں وہاں جانے سے کوئی نہیں روک رہا۔

ٹرمپ کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ان کی شخصیت اور سیاسی طرزِ عمل کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے تاہم ان کا اسرائیل منتقل ہونے یا وہاں وزیراعظم بننے سے متعلق بیان ایک فرضی اور طنزیہ نوعیت کا اظہار ہے اسے کسی عملی سیاسی فیصلے یا منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

Related Posts