جھارکھنڈ احتجاج: مودی کے اوچھے ہتھکنڈے، اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا پر سیاہی پھینک دی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

نیہا
(فوٹو: وی نیوز)

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جمعہ کو ریاستی اسمبلی کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی۔ احتجاج ریاست میں بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

اس حوالے سے بھارتی پولیسکا کہنا ہے کہ سیاہی پھینکنے والے شخص کی شناخت امر ناتھ پانڈے کے طور پر ہوئی ہے، جسے حراست میں لے کر دھرووا پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اور تاحال اس کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی کیونکہ کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔

ہٹیا کے ڈی ایس پی نیرج کمار نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ امر ناتھ پانڈے کی شناخت کرلی گئی ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ ان کے مطابق رسمی شکایت نہ ملنے کی وجہ سے ابھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔یہ واقعہ برسا چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں آئیسا اور اے آئی ایس ایف کے کارکنوں سمیت دیگر مظاہرین اسمبلی کی طرف مارچ کر رہے تھے۔

نیہا بورا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاہی پھینکے جانے سے میں خوفزدہ نہیں ہوں۔ دہلی میں احتجاج کے دوران پیلٹ گن کی فائرنگ اور پولیس کے لاٹھی چارج کا سامنا بھی کرچکی ہوں۔ کیا سیاہی پھینکنے سے ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کے غصے کو دبایا جا سکتا ہے؟

ایک اور اسٹوڈنٹ لیڈر شیوانی نے بتایا کہ مظاہرین پرامن مارچ کر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص ہجوم سے باہر نکلا اور نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی، سیاہی پھینکنے والے کو بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔دوسری جانب گرفتار ملزم  نے میڈیا سے گفتگو میں نیہا بورا پر الزام لگایا کہ وہ عمر خالد کی حامی ہیں اور اسی وجہ سے وہ انہیں پسند نہیں کرتا۔ اس نے نیہا بورا کو ’ملک دشمن‘ بھی قرار دیا۔

Related Posts