سوشل میڈیا پر پشاور کے تعلیمی ادارے این سی ایس یونیورسٹی کی ایک پرانی ویڈیو ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون کو مغربی لباس میں امریکی ریپر کارڈی بی کے گانے ’بوڈاک یلو‘ پر پرفارم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
کچھ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے لڑکی کی ڈانس ویڈیو کو 2026 کے واقعے کے طور پر شیئر کیا جا رہا ہے تاہم یہ کلپ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر سامنے آ چکا ہے اور اس پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
اکتوبر 2022 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق یہ پرفارمنس این سی ایس یونیورسٹی پشاور میں ایک تقریب کے دوران ہوئی تھی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے تقریب کے انعقاد اور تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے جبکہ بعض صارفین نے اسے سماجی اقدار کے منافی قرار دیا تھا۔
#Irony died 100 times
#Pakistan #Hypocrites who sell #Terrorists to Kashmir, talks of Islam Kalima, Sharia & emotional blackmailing stuff; it Conducts an extravagant modern Music show at its own #Peshawar University
#JagoKashmir
#KashmirRejectsPakistan
https://t.co/C0x0BZnW7v— Er Mehraj Malik (@ErMehrajMalik) October 21, 2022
معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے این سی ایس یونیورسٹی پشاور کے کیمپس ڈائریکٹر نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے معذرت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب ایک غیر ملکی کمپنی نے منعقد کی تھی اور یونیورسٹی نے صرف جگہ فراہم کی تھی۔ ان کے مطابق، تقریب کے اختتام پر ہونے والے میوزیکل کنسرٹ اور پرفارمنس کے بارے میں انتظامیہ کو پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس وقت خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے بھی معاملے کا نوٹس لیا تھا اور یونیورسٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع دی تھی۔ ادارے کو تین روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
نجی ادارے NCS میں غیر اخلاقی پروگرام کے انعقاد پر اُن کو نوٹس جاری کردیا گیا۔ اگر تین دن کے اندر جواب نہ دیا گیا تو ادارہ کا الحاق بھی ختم ہوسکتا ہے۔ https://t.co/A440DQRldg
— Kamran Khan Bangash 🇵🇰 (@kamrankbangash) October 20, 2022
پرانی ویڈیو کو نئے واقعے کے طور پر شیئر کرنے سے گریز کریں
سوشل میڈیا پر کسی ویڈیو کا دوبارہ وائرل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ واقعہ حال ہی میں پیش آیا ہے۔ دستیاب پرانی رپورٹ کے مطابق، مذکورہ ویڈیو اکتوبر 2022 میں بھی گردش کر رہی تھی اور اس وقت اس پر تنقید ہو چکی تھی۔
صارفین سے اپیل ہے کہ ویڈیو کو 2026 کا واقعہ قرار دینے یا آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تاریخ اور پس منظر کی تصدیق کریں تاکہ پرانے واقعات سے متعلق غلط فہمی پیدا نہ ہو
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








