ملکی معیشت سے متعلق اسٹیٹ بینک ے نئے اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق ستمبر کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک بار پھر نمایاں خسارے کا شکار ہو گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 388 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے بیرونی ادائیگیوں اور ملکی تجارت کے توازن پر دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں وسعت آئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق درآمدی ادائیگیوں میں اضافے اور برآمدات میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے کے باعث بیرونی کھاتوں کا توازن متاثر ہوا جس کے نتیجے میں خسارے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔
معاشی ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل خسارہ بیرونی ادائیگیوں کے انتظام اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق کو کم کرنا اور برآمدی آمدن میں اضافہ بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے اہم عوامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








