کراچی کے طلباء نے مہران کار کو الیکٹرک گاڑی میں تبدیل کردیا

الیکٹرک کاریں ماحول دوست اور موثر ہونے کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔ حکومت ملک میں برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔کراچی میں طلباء کے ایک گروپ نے 800 سی سی مہران کار کو الیکٹرک گاڑی میں تبدیل کرکے آٹوموبائل سیکٹر کے لیے ایک نئی مثال قائم کردی ہے۔

یہ گاڑی زیادہ سے زیادہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے۔ طالب علموں نے گاڑی پر ڈھائی سے 3 لاکھ روپے خرچ کیے ، ان کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی بغیر کسی متبادل کے دس سال تک چل سکتی ہے۔

اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے طالب علم مبشر حسن نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کوالیکٹرک موٹر کار پر تبدیل کیا۔ ایک اور طالب علم احمد ظہیر نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کا تجربہ کیا ہے ، اس میں 4سے 5 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔

ان کے استاد عابد کریم نے بتایا کہ انہوں نے ایک سال پہلے اس منصوبے پر کام شروع کیا۔ ٹیم نے ایک کار خریدی اور کئی ممالک سے اسپیئر پارٹس جمع کرنے پڑے کیونکہ یہ پارٹس پاکستان میں دستیاب نہیں تھے۔

احمد ظہیرنے کہا کہ اس منصوبے کو مکمل ہونے میں چھ ماہ لگے لیکن ان کے امتحانات کی وجہ سے اس میں دو ماہ کی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑی میں سب سے بڑا مسئلہ بیٹری کا ہے کیونکہ اس کی زیادہ سے زیادہ عمر سات سال ہے اور جدید ٹیکنالوجی ملک میں دستیاب نہیں ہے۔

کار میں الیکٹرک موٹر لیتھیم بیٹری اور ایک ڈسپلے پینل ہے جو ڈرائیور کو معلومات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے گاڑی میں پارکنگ میں مدد دینے والا نظام نصب کیا ہے،ایک چارجر بھی ہے۔ گاڑی مکمل چارج ہونے میں پانچ گھنٹے لیتی ہے اور صرف 100 روپے کی بجلی استعمال کرتی ہے۔

طلباء نے اپنی یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا کہ انتظامیہ نے اس منصوبے کو متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا۔ گاڑی بنانے والے طلباء کے ٹیچرعابد کریم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں برقی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سبسڈی فراہم کرے۔