میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ، نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ حکومت نے میر رضا کیس کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے خط ارسال کیا جائے گا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاالحسن لنجار نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈی آئی جی عامر فاروقی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر میر رضا کے اہلخانہ کسی مخصوص پولیس افسر پر اعتماد کرتے ہیں تو حکومت اسے بھی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنانے پر غور کرے گی تاکہ تحقیقات پر کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے مقدمے میں چھوٹا سے چھوٹا ثبوت بھی اہمیت رکھتا ہے۔ میر رضا کیس میں سامنے آنے والی دو مختلف میڈیکل رپورٹس کا جائزہ بھی جوڈیشل کمیشن لے گا، جبکہ متضاد رپورٹس کے معاملے کا حتمی فیصلہ کمیشن یا عدالت کرے گی۔

ضیاالحسن لنجار نے اعتراف کیا کہ ابتدائی کرائم سین کو مطلوبہ انداز میں محفوظ نہیں کیا گیا، تاہم حکومت چاہتی ہے کہ تمام حقائق غیرجانبدار انداز میں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق اگر کسی مقدمے میں ایک فیصد بھی شک موجود ہو تو تحقیقات سو فیصد ہونی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران شواہد کی بنیاد پر تفتیش کا رخ تبدیل ہوسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب تحقیقات کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی یا کسی بھی افسر کی رائے حتمی نہیں، بلکہ تفتیش کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن نئی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور تحقیقات کے عمل کی نگرانی بھی کرے گا تاکہ کیس کی شفافیت پر کسی قسم کا سوال نہ اٹھے۔

Related Posts