بینک جانے کی ضرورت نہیں! پنشنرز کیلئے حکومت نے نیا آسان نظام متعارف کروا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

وفاقی حکومت کی جانب سے پنشنرز کی سہولت کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں روزمرہ کے چکروں اور طویل کاغذی کارروائی سے نجات مل سکے۔

نئی پالیسی کے نمایاں خدوخال

بینکوں کے چکروں سے چھٹکارا: اب پنشنرز کے لیے یہ لازمی نہیں رہا کہ وہ بائیو میٹرک تصدیق کے لیے بار بار بینکوں کے چکر کاٹیں۔

نادرا ایپ کے ذریعے تصدیق: بینک جانے کے بجائے پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد صرف نادرا کی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی زندگی کا ثبوت (لائف سرٹیفیکیشن) دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگ شہریوں کے لیے ایک آسان متبادل طریقہ کار بھی رکھا گیا ہے۔

کاغذی کارروائی کا خاتمہ: پرانے روایتی کاغذی فارمز کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور تمام رقوم اب براہِ راست ڈیجیٹل کریڈٹ سسٹم کے ذریعے متعلقہ پنشنرز کے بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوں گی۔

بینکوں کا محدود کردار: کمرشل بینکوں کا کام اب صرف رقوم کی ادائیگی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اب نہ تو وہ پنشنرز سے بائیو میٹرک یا زندگی کا ثبوت مانگیں گے اور نہ ہی کسی کا پنشن اکاؤنٹ بند یا غیر فعال کر سکیں گے۔

خودکار سسٹم: نادرا کے ڈیٹا بیس کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس سے زندگی کی تصدیق کا ڈیجیٹل سگنل خودکار طریقے سے متعلقہ اداروں کو منتقل ہو جائے گا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر نافذ کیا جانے والا یہ جدید نظام تمام وفاقی سول ملازمین پر لاگو ہوگا۔

Related Posts