مشرق وسطیٰ کشیدگی اور اسرائیل کا جنگی جنون

تازہ ترین

تازہ ترین

    مشرق  وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کے جنگی  جنون نے خطے کو ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے مابین پس پردہ مذاکرات سمیت امن کی تمام کوششیں فی الوقت ہچکولوں کا شکار ہیں۔

واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جس نے خطے میں قیام امن کیلئے امریکا کی سفارتی کوششوں کی قلعی کھول دی ہے۔

گزشتہ روز ایران جنگ کے تناظر میں امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات پر لگام لگانے کیلئے قرارداد کی منظوری دے دی جس کا مقصد صدر ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ قرارداد کے حق میں 215 جبکہ اس کے خلاف 208 ووٹ پڑے اور خود ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے 4 اراکین نے بھی ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈال دیا۔ کسی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی جبکہ 7 اراکین نے ووٹنگ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

قرارداد پر صدر ٹرمپ نے سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز کانگریز میں بے معنی ووٹنگ ہوئی، جس کا مقصد جنگی اختیارات محدود کرنا تھا، مخالفین نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا جب ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے حتمی مذاکرات کر رہا ہوں۔ کوئی بھی محب وطن امریکا کے خلاف ایسا غیر ذمہ دارانہ اقدام کیسے اٹھا سکتا ہے؟ ڈیموکریٹس ملکی مفاد پر سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔

تشویشناک طور پر لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 3 ہزار 526افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 10 ہزار 733 سے تجاوز کرچکی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس حالیہ جنگ بندی کو مذاق قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان پر بمباری جاری رکھیں گی، شمالی اسرائیل ان کے اہداف میں شامل رہے گا۔ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی محدود معاہدے کے بجائے مکمل جنگ بندی اور لبنانی سرزمین سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں اور بیروت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لبنانی حکومت کے کسی بھی فیصلے سے قطع نظر حزب اللہ ہی وہ کلیدی قوت ہے جو جنگ یا امن کا حتمی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کے سخت مؤقف کے بعد لبنان اور اسرائیل کے مابین مزید خونریزی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران کے محاذ پر بھی صورتحال کسی ابہام سے کم نہیں ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے جنگ کے خاتمے کے لیے زیرِ بحث مفاہمت کی یادداشت کے مسودے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اب بھی کئی ابہام موجود ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ تہران کو واشنگٹن کی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ ایران کے اپنے مطالبات کو مبہم رکھا جا رہا ہے۔

ادھر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کو بھی تنقید کا سامنا ہے، جہاں ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ کے دعوے کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے، تو اب ایران کے ساتھ کسی مذاکراتی معاہدے کی کیا ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے افزودہ یورینیم تک رسائی کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مواد اب ایک طرح سے مدفون ہو چکا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا کوئی فوری ارادہ ظاہر نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ کسی معاہدے کی صورت میں ایسی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لیری سی جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کی صورتحال ان بیانات سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع سے یہ معلومات ملی ہیں کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں اور وہ کسی بھی وقت اس کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے صدر ٹرمپ کے لہجے کو یکسر تبدیل کر دیا ۔ جہاں وہ پہلے ایران کو تباہ کرنے” اور آیت اللہ کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے تھے، اب وہ انتہائی محتاط او ر لو پروفائل انداز اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اب یہ یقین ہو چکا ہے کہ ایران ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ یہ معلومات مبینہ طور پر ایرانی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف تک پہنچائیں، جس کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کو اس صورتحال سے آگاہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب دھمکیوں کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایٹمی قوت سے ٹکرانا خودکشی کے مترادف ہے۔

اس ضمن میں پاکستان کا کردار بھی انتہائی کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ لیری جانسن کے مطابق پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، جسے اسلام آباد معاہدے کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صدر ٹرمپ اگلے 30 دنوں کے اندر اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے جا سکیں۔

ایران امریکا کشیدگی کے اثرات اب تیل کی تنصیبات تک بھی پہنچ چکے ہیں اور عمان کے اہم مینا الفحل ٹرمینل پر ہونے والے ایک مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں خام تیل کی لوڈنگ کی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا ہورہی ہے۔

امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی بیرونی خطرات سمیت شدید اندرونی خلفشار کا سامنا ہے، جس کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اسرائیل میں سینکڑوں کٹر مذہبی یہودیوں نے فوجی خدمات کے لازمی نفاذ کے خلاف ایک شاہراہ کو بلاک کر کے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے دو مذہبی طلبہ کو حراست میں لے کر ایک کو فوجی حکام کے حوالے کر دیا، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور بارڈر گارڈز کو تعینات کرنا پڑا۔

قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اشتعال انگیز بیانات اور طاقت کے استعمال کے بجائے سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دیں اور تمام متعلقہ ممالک کو ایسے مذاکراتی عمل پر اتفاق کرنا ہوگا جس میں کسی ایک فریق کی من مانی کے بجائے سب کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا کردار بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی کے معاہدوں پر صرف دستخط ہی نہ ہوں بلکہ ان پر عمل درآمد کی نگرانی بھی یقینی بنائی جا سکے کیونکہ دونوں جانب سے مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی راستہ مسئلے کا مستقل حل فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خطے میں اعتماد سازی کے عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں جبکہ لبنان، ایرا ن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے سے گریز اور بلااشتعال جنگی جنون کی روک تھام سے اعتماد سازی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات، تجارتی راستوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو تنازعات سے دور رکھنے پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا کیونکہ اس قسم کے شرپسندانہ حملوں کے اثرات پورے خطے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب تک تمام فریق اپنے سیاسی اور سکیورٹی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Related Posts