جعلسازی کا الزام،گولڈ میڈل اور اسکالرشپ غیرقانونی، اسسٹنٹ پروفیسر 30سال بعد برطرف

تازہ ترین

تازہ ترین

ہائر ایجوکیشن کمیشن
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

فیصل آباد میں گورنمنٹ سائنس کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جعلساز قرار دیتے ہوئے عہدے سے برطرف کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے قرار دیا کہ مبینہ جعلی اسسٹنٹ پروفیسر مجاہد عمر نے جعلسازی کا استعمال کرتے ہوئے قائد اعظم گولڈ میڈل اور سرکاری نوکری حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ملزم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم مجاہد عمر نے گریجویشن کے ساتھ ساتھ انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی نہیں دیا بلکہ ان کی جگہ ایک دوسرے شخص سے امتحان دلوایا گیا اور جعلی اسناد پر گولڈ میڈل کے علاوہ قومی ٹیلنٹ اسکالرشپ بھی اپنے نام کرلی۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ جعلساز ملزم مجاہد عمر کو جعلی اسناد کی بنیاد پر 1996 میں محکمہ تعلیم میں بھرتی کیا گیا جو 30سال میں ترقی کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر بن گیا تھا۔ ایجوکیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈگریوں کو جعلی ہونے کی بنیاد پر منسوخ کیا جارہا ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جعلساز ملزم کو ڈگریوں کی منسوخی کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر مجاہد عمر سے 30 سال کی تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کا حکم بھی دے دیا گیا۔

Related Posts