سکھر: وفاقی شرعی عدالت کے ریٹائرڈ چیف جسٹس آغا رفیق خان درانی کے گھر اور ضلع شکارپور کے گڑھی یاسین میں نیشنل بینک کی ایک برانچ پر مبینہ فائرنگ کے مقدمے میں 3 روز قبل گرفتار کیے گئے 2 مشتبہ افراد میں سے ایک جمعرات کو پولیس حراست میں ہلاک ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گڑھی یاسین پولیس نے تفتیش کے لیے آصف پٹھان اور ساجد پٹھان کو گرفتار کیا تھا۔ایس ایچ او ہدایت اللہ نندوانی کی جانب سے آصف پٹھان کے اہل خانہ کو جمعرات کو اس کی ہلاکت کی اطلاع دیے جانے کے فوراً بعد متوفی کے مشتعل رشتہ دار پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور ایس ایچ او اور ان کے ماتحت اہلکاروں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تشدد کرکے آصف کو ہلاک کیا۔
شکارپور کے ایس ایس پی محمد کلیم ملک نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے حراست میں ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے اور ذمہ دار پائے جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات پہلے ہی شروع کردی گئی ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی جانب سے زیرِ حراست افراد کے ساتھ برتاؤ اور تفتیش کے طریقہ کار پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست ہلاکتوں کے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








