علی رضا کو 3 سال قید، 1 لاکھ 20 ہزار بھاٹ جرمانہ، تاحیات پابندی! جانیں دورانِ پرواز خاتون سے کیا ہوا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

دبئی سے بینکاک پہنچنے والی پرواز میں سوئی ہوئی خاتون مسافر کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکت کا معاملہ قانونی کارروائی تک پہنچ گیا جس کے بعد 30 سالہ پاکستانی شہری کو تھائی لینڈ میں تین سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم کو ملک میں دوبارہ داخل ہونے سے بھی مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ 3 اگست کو فلائی دبئی کی پرواز FZ-1583 میں پیش آیا جو دبئی سے تھائی لینڈ کے ڈون موئانگ بین الاقوامی ہوائی اڈے تک تقریباً چھ گھنٹے کا سفر طے کر رہی تھی۔ 33 سالہ تھائی خاتون بیوٹ پمپاپورن اٹلی کے شہر میلان کا سفر مکمل کرکے اپنے وطن واپس جا رہی تھیں اور ان کے ساتھ ان کی چار سالہ بیٹی بھی موجود تھی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق خاتون سفر کے دوران اپنی چھوٹی بیٹی کو گود میں لیے سو رہی تھیں کہ اچانک ان کی آنکھ کھل گئی۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ بیدار ہونے پر انہوں نے ساتھ والی نشست پر موجود مسافر رضا علی کو مبینہ طور پر نازیبا حرکت کرتے ہوئے دیکھا جس سے وہ خوفزدہ ہوگئیں۔

A Thai woman says a Pakistani man sexually assaulted her on a Dubai-Bangkok flight before breaking down and apologising.

متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق انہیں اس دوران یہ بھی محسوس ہوا کہ مذکورہ شخص نامناسب انداز میں ان کے جسم کو چھو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چار سالہ بچی کو گود میں لیے آرام کر رہی تھیں اور صورتحال کا اندازہ ہونے کے بعد بھی دورانِ پرواز کسی ہنگامے یا خوف و ہراس سے بچنے کے لیے انہوں نے خود کو قابو میں رکھا۔

خاتون کا کہنا تھا کہ مبینہ واقعے کے بعد رضا علی نے سامنے نصب تفریحی اسکرین کو درست کرنے کا بہانہ کیا اور اس دوران بار بار ان کی طرف دیکھتا رہا تاہم خاتون نے فوری ردعمل دینے کے بجائے طیارے کے بینکاک پہنچنے کا انتظار کیا اور لینڈنگ کے بعد ہی پرواز کے عملے کو پیش آنے والے واقعے سے آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈون موئانگ ایئرپورٹ پہنچنے پر رضا علی جو مبینہ طور پر پاکستانی سیاحوں کے ایک گروپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا نے ابتدا میں خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا تاہم بعد میں اس نے اپنے فعل کا اعتراف کرلیا جبکہ اس کے ساتھ موجود افراد نے بھی خاتون سے معافی مانگنے کی کوشش کی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھائی ٹورسٹ پولیس اور امیگریشن حکام نے کارروائی کی اور پاکستانی شہری کو طیارے سے اتار کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ وہاں متاثرہ خاتون بیوٹ پمپاپورن نے رضا علی کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی جس کے بعد متعلقہ تھائی اداروں نے معاملے کی قانونی تحقیقات شروع کردیں۔

متاثرہ خاتون نے اپنی شناخت چھپانے کے دستیاب قانونی حق سے خود دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کو سامنے لا کر دوسری خواتین کو تنہا سفر کے دوران پیش آنے والے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو یہ پیغام بھی دیا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔

مقدمے کی کارروائی کے بعد متاثرہ خاتون نے 5 اگست کو فیس بک کے ذریعے کیس کے نتیجے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ملزم کی تصویر بھی شیئر کی اور بتایا کہ جرم کرنے والے شخص کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق رضا علی کو تین سال قید، ایک لاکھ 20 ہزار بھاٹ جرمانے اور تھائی لینڈ میں دوبارہ داخلے پر مستقل پابندی کی سزا دی گئی۔

خاتون نے پولیس انسپکٹر اور ٹورسٹ پولیس سمیت متعلقہ حکام کی مدد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی جانب سے فیصلہ شیئر کیے جانے کے بعد فیس بک صارفین نے کمنٹس میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کئی لوگوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہیں انصاف حاصل ہوا۔

خاتون کے مطابق 3 اگست کو پرواز کے دوران وہ سو رہی تھیں کہ انہیں محسوس ہوا جیسے کوئی ان کے جسم کے نچلے حصے کو چھو رہا ہے۔ انہوں نے کمبل کے اندر نمی محسوس ہونے کا بھی دعویٰ کیا بعد ازاں جب وہ بیدار ہوئیں تو مبینہ طور پر پاکستانی مسافر کو اپنی جانب مسلسل دیکھتے ہوئے پایا۔

A Pakistani man was jailed for three years and blacklisted from Thailand after an in-flight assault on a Thai woman travelling from Dubai.

بینکاک پہنچنے کے بعد فلائٹ اٹینڈنٹس نے پاکستانی شہری کو مزید پوچھ گچھ کے لیے الگ کردیا۔ اسی دوران ایئرلائن کے ایک ملازم نے خاتون کی شلوار پر موجود ایسے مشکوک دھبوں کو بھی دیکھا جنہیں مبینہ طور پر جنسی مادے کے نشانات قرار دیا گیا۔ واقعے کے بعد معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کردیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ملزم کی جانب سے معافی مانگے جانے کے باوجود انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور پولیس سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا بعد ازاں ٹورسٹ پولیس، امیگریشن بیورو اور ڈون موئانگ پولیس اسٹیشن نے معاملے کی تحقیقات کیں جسکے نتیجے میں خاتون نے 5 اگست کو مقدمے کے انجام اور ملزم کو سنائی گئی سزا کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا۔

Related Posts