نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں زلزلے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں کم از کم 9 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کے بعد برف اور چٹانوں کے تودے دریا میں گرنے سے اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس نے سڑکوں، پلوں، مکانات اور دیگر بنیادی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا۔
رائٹرز کے مطابق سیلابی پانی نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ تبت سے ملحقہ اہم زمینی گزرگاہ گیرونگ پورٹ بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا۔
حکام کے مطابق اب تک 384 افراد لاپتا ہیں، جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔
لاپتا افراد میں نیپال میں پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے 8 جنوبی کوریائی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ملائیشیا کے 17، جنوبی افریقہ کے 4 اور آسٹریلیا و نیدرلینڈز کے ایک، ایک شہری بھی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔
نیپالی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، کیونکہ دریا کے بالائی حصے میں رکاوٹ موجود ہے جس کے باعث مزید سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








