خام تیل کی قیمت پھر 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی! پسِ پردہ کیا معاملہ ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے امکانات مسترد کیے جانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں نے دوبارہ تیزی کا رخ اختیار کرلیا جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر تیل کی سپلائی اور مستقبل کی قیمتوں پر مرکوز ہوگئی ہے۔

گزشتہ کاروباری سیشن میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں بہتری کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم بدھ کو خطے کی صورتحال سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے قیمتوں کو دوبارہ سہارا فراہم کیا۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے نومبر کے معاہدے کی قیمت جس کی میعاد بدھ کو ختم ہورہی ہے، 71 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے بعد 103.30 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

دسمبر کے لیے زیادہ فعال برینٹ معاہدے کی قیمت بھی 35 سینٹ بڑھ کر 96.51 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 43 سینٹ یا 0.48 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 89.81 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں ماہانہ اضافہ

موجودہ رجحان کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے جو جولائی کے بعد اس کا سب سے نمایاں ماہانہ اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں بھی رواں ماہ تقریباً 4 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ اس دوران امریکی خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرچکی ہے جو مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔

رواں ماہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے درمیان قیمتوں کا فرق بھی گزشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔ مارکیٹ میں امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے ممکنہ اقدام کو بھی قریب سے دیکھا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرتا ہے تو اسکے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں ڈیزل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے۔ اضافی سپلائی کی صورت میں امریکی ریفائنریوں کو خام تیل کی پروسیسنگ کم کرنا پڑسکتی ہے جس سے خام تیل کی طلب اور قیمتوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

Related Posts