بیرونِ ملک روزگار کے خواب دیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے عراق جانے کا سفر مبینہ طور پر خوفناک تجربے میں بدل گیا۔ انسانی اسمگلنگ کے ذریعے عراق پہنچنے والے تقریباً 30 پاکستانی نوجوانوں کے جیلوں اور حراستی مراکز میں مبینہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
متاثرہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ عراق میں محبوس پاکستانیوں پر مبینہ طور پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ لواحقین کے مطابق بعض خاندانوں کو نوجوانوں پر تشدد کی ویڈیوز بھی موصول ہوئی ہیں، جن میں انہیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے اور نازک اعضا پر مبینہ طور پر کرنٹ لگانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
اہلِ خانہ نے وکیل علی چنگیزی ایڈووکیٹ کے ذریعے صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری سفارتی مداخلت، نوجوانوں کی رہائی اور تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
علی چنگیزی ایڈووکیٹ کے مطابق نوجوانوں کو غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت کا جھانسہ دے کر عراق منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ روانگی سے قبل نوجوانوں سے لاکھوں روپے وصول کیے گئے، تاہم عراق پہنچنے کے بعد ہر پاکستانی کی رہائی کے لیے مبینہ طور پر 10 سے 20 ہزار امریکی ڈالر مزید طلب کیے جا رہے ہیں۔
وکیل کے مطابق مطلوبہ رقم ادا نہ کرنے والوں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کرکے انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، جہاں انہیں مزید تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، عراق میں پھنسے پاکستانیوں کو قانونی اور سفارتی معاونت فراہم کی جائے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








