ناروے کپ جیسے بڑے عالمی فٹبال ایونٹ میں پاکستان کے لیے کھیلنے والے کھلاڑی کے اچانک غائب ہونے نے تشویش کی لہر دوڑا دی۔ بیٹر فیوچر پاکستان ٹیم کے رکن میران پیار علی ٹورنامنٹ کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے جس کے بعد ٹیم انتظامیہ، ساتھی کھلاڑیوں، مداحوں اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
پاکستانی فٹبال کلب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ میران پیار علی نے ناروے کپ کے ابتدائی میچز میں شرکت کی جس کے بعد وہ ٹیم کے ہوٹل سے باہر گئے اور واپس نہیں آئے۔
بیان کے مطابق ٹیم کے دیگر کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف دو روز قبل پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں تاہم میران پیار علی کے موجودہ مقام کے بارے میں اب تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔
ناروے پولیس کی تحقیقات جاری
دوسری جانب ناروے کی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میران پیار علی ہوٹل سے اپنی مرضی سے روانہ ہوئے تھے۔ حکام کو اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے اغوا، زبردستی لے جائے جانے یا کسی مجرمانہ کارروائی کا شبہ ظاہر ہو۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فٹبالر کی تلاش کا عمل جاری ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
حیدری بلوچ فٹبال کلب سے بھی وابستگی
ذرائع کے مطابق میران پیار علی پاکستان کے حیدری بلوچ فٹبال کلب سے بھی منسلک ہیں۔ ان کے اچانک لاپتہ ہونے کی خبر کے بعد کھیلوں سے وابستہ افراد، مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ معلومات رکھنے والے افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔
محفوظ واپسی کے لیے رابطے جاری
پاکستانی فٹبال حکام میران پیار علی کی بحفاظت واپسی کے لیے ناروے میں موجود متعلقہ اداروں، مقامی سفارت خانے اور دیگر حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
اس واقعے کے بعد بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی حفاظت، نگرانی اور انتظامی اقدامات پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آئیں گی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








