یورپی ویزا اپائنٹمنٹ کے نام پر لاکھوں کی وصولی؟ اسلام آباد میں مبینہ ایجنٹ مافیا سرگرم

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد میں یورپی سفارت خانوں سے قونصلر خدمات حاصل کرنے کے خواہش مند ہزاروں پاکستانی مبینہ طور پر ایک منظم ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں جہاں ویزا اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے شہریوں سے بھاری رقوم وصول کیے جانے کا الزام ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض افراد کو صرف ملاقات کا وقت حاصل کرنے کے لیے 15 لاکھ روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

مبینہ طور پر سب سے زیادہ شکایات اسلام آباد میں قائم اسپین کے سفارت خانے سے متعلق سامنے آئی ہیں جہاں اپائنٹمنٹ کی غیر قانونی خرید و فروخت نے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری منظم استحصال ہے جس میں ویزا درخواست گزاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس اور متاثرہ افراد کے بیانات کے مطابق بعض درمیانی کردار ادا کرنے والے ایجنٹس نے آن لائن بکنگ نظام پر قبضہ کر لیا ہے جس کے باعث مصنوعی طور پر اپائنٹمنٹس کی کمی پیدا کی جاتی ہے بعد ازاں انہی محدود نشستوں کو بھاری قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے جن کی قیمت مبینہ طور پر 6 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

صحافی اویس حمید نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک قریبی جاننے والے کو حال ہی میں صرف بنیادی قونصلر اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے ایک ایجنٹ کو 6 لاکھ روپے ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

یورپی سفارت خانوں تک پھیلا مبینہ نیٹ ورک

ابتدائی اطلاعات کے بعد سامنے آنے والے ردعمل سے ظاہر ہوا کہ یہ مسئلہ صرف اسپین کے سفارت خانے تک محدود نہیں۔ کئی درخواست گزاروں اور کمیونٹی نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں دیگر یورپی ممالک کے سفارت خانے بھی اسی نوعیت کے غیر قانونی اپائنٹمنٹ نیٹ ورک کا سامنا کر رہے ہیں جن میں جرمنی اور نیدرلینڈز کے مشنز بھی شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً 83 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں تاہم بیرونِ ملک اپنے خاندانوں سے ملنے یا ضروری دستاویزات مکمل کرنے کے خواہش مند افراد کو اپائنٹمنٹ نظام میں مبینہ رکاوٹوں کے باعث طویل انتظار، مالی نقصان اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کارروائی اور نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

کمیونٹی رہنماؤں اور مبصرین کے مطابق موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ دو طرفہ انتظامی کمزوریاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب مقامی ادارے ایسے ایجنٹس کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر پا رہے جو نظام کو متاثر کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سفارتی مشنز بھی آن لائن بکنگ نظام کو محفوظ بنانے اور خودکار طریقوں سے بڑی تعداد میں اپائنٹمنٹس حاصل کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہیں کر سکے۔

ناقدین کے مطابق کچھ مقامی ایجنٹس نے قونصلر خدمات کے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ غیر قانونی ویزا ایجنٹس کے خلاف ملک گیر کارروائی کی جائے۔ساتھ ہی سفارت خانوں سے بھی درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ شناخت کی سخت تصدیق اور جدید حفاظتی اقدامات نافذ کریں تاکہ اپائنٹمنٹس کی ذخیرہ اندوزی روکی جا سکے۔

بارسلونا اجلاس میں مشترکہ حکمت عملی تیار

مسئلے کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بعد بارسلونا میں ایک خصوصی مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس کا مقصد اس بحران کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔

یہ اجلاس معروف کمیونٹی رہنما راجہ مظہر حسین اور سابق پاکستانی سفارت کار سید ایاز حسین شاہ کی میزبانی میں ہوا جس میں بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں، تنظیمی عہدیداروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس نظام کی خامیوں پر تفصیلی غور کیا گیا جن کی وجہ سے مبینہ طور پر ایجنٹ مافیا کو کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ شرکا نے ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جس کے تحت اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ اور متعلقہ یورپی اداروں سے رابطہ کر کے غیر شفاف طریقہ کار کے خاتمے اور شہریوں کو قونصلر خدمات تک مفت اور منصفانہ رسائی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Related Posts