کیا پمز ہسپتال میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی؟ متأثرہ والدہ نے بڑا سوال اٹھا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پمز ہسپتال
(فوٹو: اے آر وائی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آج صبح ہونے والی آتشزدگی نے 15 نومولود بچوں کی جان لے لی۔ متأثرہ والدہ نے بڑا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق متأثرہ والدہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ سانحہ نہیں بلکہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ پمز کے لوگ نرسری لاک کرکے کیوں گئے تھے؟ کیا بچوں کو غائب کیا گیا یا جلایا گیا؟ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ کسی ڈاکٹر کا ایک بال تک نہیں جلا، صرف بچے جل گئے۔

گفتگو کے دوران والدہ نے کہا کہ ڈاکٹر، نرسز اور اسٹاف میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی۔ ان کے ایک آدمی نے کہا کہ ہم بڑے لوگوں کو بچا رہے تھے۔ 2 گھنٹے بعد ریسکیو اہلکار اور 4 گھنٹوں بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ اے سی اور ڈی سی یہاں گھوم پھر کر واپس چلے گئے ہیں۔

متأثرہ والدہ کا کہنا ہے کہ پمز کے اسٹاف کو رقم نہ دو تو یہ لوگ کام نہیں کرتے۔ خیال رہے کہ سربراہ پمز پروفیسر عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران متعدد نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔ تاحال آگ لگنے کی وجوہات کا تعین نہیں کیاجاسکا۔

Related Posts