آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کو مبینہ طور پر پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع نے خطے میں توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیئے ہیں۔
برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے UKMTO کے مطابق جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے تاہم حملے میں ہونے والے نقصانات اور عملے کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ پائپ لائن سے روزانہ تقریباً 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جاتا ہے جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد ہے۔
سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن کی بندش احتیاطی اقدام ہے جبکہ بغداد اور ریاض نے ایک ڈرون حملے کا الزام عراق سے سرگرم ایران نواز گروہوں پر عائد کیا ہے۔ حملے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پائپ لائن حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق جازان میں حوثیوں کے داغے گئے پروجیکٹائل سے دو افراد زخمی اور متعدد عمارتیں متاثر ہوئیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ کا خدشہ ہے جبکہ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








