وردی کا رعب جمانا مہنگا پڑگیا! پیٹی بھائیوں نے سب انسپکٹر کو بہن سمیت دھر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

لاہور کے تھانہ کوٹ لکھپت میں قانون کے رکھوالے ہی قانون کی گرفت میں آگئے۔ بھانجے کو تھانے سے چھڑوانے کی کوشش ایک سب انسپکٹر اور اس کی بہن شازیہ بی بی کو اتنی مہنگی پڑی کہ دونوں کو اپنے ہی محکمے کے ہاتھوں ہتھکڑیاں لگ گئیں۔ اختیارات کے غلط استعمال اور پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کا یہ انوکھا واقعہ پورے علاقے میں زیرِ بحث بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انویسٹی گیشن ونگ ہیڈ کوارٹر میں تعینات سب انسپکٹر جنید احمد اپنی بہن کے ہمراہ اچانک کوٹ لکھپت پولیس اسٹیشن جا پہنچا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس دوران باقاعدہ باوردی حالت میں تھا۔ تھانے آنے کا مقصد ان کے بھانجے زین علی عرف سورج کو چھڑوانا تھا جسے کوٹ لکھپت پولیس نے ایک مقدمے (نمبر 4174/26) میں گرفتار کر رکھا تھا۔ تھانے پہنچ کر دونوں نے مبینہ طور پر ملزم کو زبردستی اور غیر قانونی طریقے سے آزاد کرانے کی بھرپور کوشش کی۔

مقدمے کے متن کے مطابق اس سنسنی خیز مداخلت کے دوران صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن نے تھانے کے فرائض انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دی۔ ان پر سرکاری امور میں مداخلت، پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ ایف آئی آر انویسٹی گیشن ونگ کے سب انسپکٹر محمد اکبر کی مدعیت میں درج کی گئی۔

ایف آئی آر میں سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن کے خلاف اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے، کارِ سرکار میں مداخلت کرنے اور پولیس اہلکاروں پر حملے سمیت دیگر سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد کوٹ لکھپت پولیس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے فوری ایکشن لیتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا اور مقدمے کی تفتیش شروع کرنے کے بعد حوالات میں بند کر دیا۔

Related Posts