چاچاؤں، خالاؤں اور کرنز نے مدد نہیں کی! رشتے داروں کی بے حسی نے 5 افراد کی زندگی نگل لی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے علاقے ملیر گلشنِ حدید میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے میں گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کے معاملے میں پولیس نے ایک اہم خط برآمد کر لیا ہے جس پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں۔ اس خط کو مبینہ طور پر فیملی کی جانب سے اس انتہائی قدم کو اٹھانے سے قبل تحریر کیا گیا تھا۔

خط کے اہم نکات اور تفصیلات

تحریر کے آغاز میں لکھا گیا ہے کہ ہمارا یہ قدم اٹھانے کی وجہ۔ اس کے بعد وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد سے ہی قریبی رشتے داروں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا اور الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ والد کی موت کے ذمہ دار وہی ہیں۔

معاشی بدحالی اور بے روزگاری:

خط میں درج ہے کہ گھر میں کوئی روزگار کا ذریعہ نہیں بچا تھا۔ گزشتہ 6 ماہ سے گزر بسر کے لیے رشتے داروں سے مدد کی بھیک مانگی جا رہی تھی۔کبھی راشن کے لیے، کبھی بچوں کے دودھ کے لیے اور کبھی سلنڈر میں گیس ڈلوانے کی خاطر رقم مانگی گئی۔

رشتے داروں کا سنگدلانہ رویہ:

تحریر کے مطابق خالاؤں، چاچوں اور کزنز نے تذلیل کی انتہا کر دی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے بڑوں کی زندگی میں وعدہ کیا تھا کہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد بچوں کا خیال رکھا جائے گا لیکن وقت پڑنے پر انہوں نے منہ موڑ لیا اور نہ تو مالی تعاون کیا اور نہ ہی روزگار کے حصول میں کوئی مدد فراہم کی۔

بائیکاٹ اور تذلیل:

متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ رشتے دار نہ تو خود ملنے آتے تھے اور نہ ہی اپنے گھر بلانے کے روادار تھے۔ اگر خود ان کے پاس چلے جاتے تو دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا جاتا۔ والد کا جنازہ بھی ان کے اپنے گھر سے نہیں اٹھنے دیا گیا۔

گہرے ڈپریشن اور بلیک میجک کا ذکر:

ان تمام تلخ حالات اور ڈپریشن کی وجہ سے ذہنی توازن متاثر ہوا۔ خط میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ان کے گھر پر کالا جادو بھی کروایا گیا تھا جس کے شواہد اور چیزیں بھی برآمد ہوئیں اور اس گھناؤنے عمل میں بھی رشتے دار ہی ملوث تھے۔

قانونی نظام سے مایوسی اور آخری خواہش:

تحریر کے آخر میں ملکی قانون اور نظام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس نظام سے کسی قسم کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ آخری خواہش کے طور پر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے حالات کا ذمہ دار بننے والے افراد کو دنیا کے سامنے عبرت کا نشان بنایا جائے۔

پس منظر

واضح رہے کہ گلشن حدید کے اس دردناک واقعے میں 30 سالہ شاہزیب نے مبینہ طور پر پہلے اپنی بیوی، بہن اور بچوں کو زہر دیا اور بعد ازاں خود کو بھی پسٹل کی گولی سے ہلاک کر لیا جس سے پورے علاقے میں شدید سوگ اور صدمے کی فضا قائم ہے۔

Related Posts