6 آئی پی پیز کے معاہدے معطل، حکومت کو 43 کھرب روپے کی تاریخی بچت

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی حکومت نے چھ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے معاہدے معطل اور متعدد دیگر معاہدوں پر نظرثانی کرکے قومی خزانے کو 43 کھرب روپے کی بچت پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی کیپسٹی پیمنٹس کی تفصیلات کے مطابق یہ اقدامات آئی پی پیز سے متعلق قائم ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد معاہدوں پر نظرثانی اور بعض معاہدے معطل کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق حکومت نے گزشتہ پانچ برس کے دوران آئی پی پیز کو مجموعی طور پر 64 کھرب 6 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔

وزارتِ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آخری دو برس میں آئی پی پیز کو ایک ہزار 389 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں یہ ادائیگیاں 3 ہزار 709 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی سے مستقبل میں بجلی کے شعبے پر مالی بوجھ کم ہوگا اور قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر بچت حاصل ہوگی۔

Related Posts