سندھ کے محکمہ تعلیم میں مبینہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں محکمانہ انکوائری کے بعد شہناز زوجہ امداد علی کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
محکمانہ ریکارڈ کے مطابق شہناز نے 1995 کی تقرری کا دعویٰ کرتے ہوئے 2013 میں سرکاری ملازمت حاصل کی تھی تاہم بعد ازاں ان کی تعلیمی قابلیت اور تقرری سے متعلق دستاویزات کی حیثیت پر سوالات اٹھے اور معاملہ باقاعدہ محکمانہ تحقیقات تک پہنچا۔
معروف نیوز اینکر اور شاعر وجیہ ثانی نے سوشل میڈیا پر سندھ میں مبینہ جعلی بھرتیوں سے متعلق ایک خاتون کی ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک انڈر میٹرک خاتون کو جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر محکمہ تعلیم سندھ میں ٹیچر بھرتی کیا گیا۔
یہ چاول کی دیگ کا ایک دانہ ہے۔
پوری دیگ کا حال ہم جانتے ہیں۔
یقین نہ آئےتوآڈٹ پرراضی ہوجائیں ۔
ایک عورت جوبچاری ان پڑھ ہےاسےنوکری پرلگادیا۔ وہ سمجھی باقی سب کی طرح ووٹ چلاجائےگا صرف ۔ ۳ ہزار روپے بھی ملیں گے۔
اگلوں نے الٹا دس لاکھ قرض لے لیا اس کے نام
ووٹ تو پتہ نہیں کس کس کا pic.twitter.com/2YH1SoYFF6— Wajih Sani (@wajih_sani) September 9, 2026
ویڈیو میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ خاتون کے نام پر بینک سے 10 لاکھ روپے کا قرض لیا گیا جس کے بعد وہ مختلف مشکلات کا شکار ہوئیں۔
میرپورخاص پریس کلب میں موجود شہناز نامی خاتون نے مختلف دستاویزات پیش کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں باقاعدہ طور پر سرکاری ملازمت دی گئی تھی تاہم بعد میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی۔
محکمہ تعلیم کی انکوائری میں کیا سامنے آیا؟
سندھ کے محکمہ تعلیم کے سرکاری مؤقف کے مطابق شہناز کو گریجویٹ ظاہر کرتے ہوئے بطور ٹیچر بھرتی کیا گیا تھا جبکہ محکمانہ انکوائری میں ان کی تعلیمی قابلیت انڈر میٹرک سامنے آئی۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ملازمت کے حصول کے لیے جعلی اور من گھڑت دستاویزات استعمال کی گئیں۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق شہناز نے اپنی تنخواہ کی بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور اس سلسلے میں دو مقدمات، C.P. No. D-3158/2022 اور C.P. No. D-1136/2024، دائر کیے۔
عدالت کی ہدایت پر 12 جون 2025 کو معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ محکمہ تعلیم کے مطابق کمیٹی نے دستیاب ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جعلی دستاویزات سے متعلق الزامات کو ثابت قرار دیا۔
محکمانہ کارروائی کے دوران شہناز کو شوکاز نوٹس اور بعد ازاں فائنل شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے، تاہم محکمہ تعلیم کے مطابق ان کی جانب سے کوئی جواب جمع نہیں کروایا گیا۔ انہیں 24 نومبر 2025 کو ذاتی سماعت کا موقع بھی دیا گیا لیکن وہ اس موقع پر بھی پیش نہیں ہوئیں۔
بعد ازاں تمام قانونی اور محکمانہ مراحل مکمل کرنے کے بعد 25 نومبر 2025 کو شہناز کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔محکمہ تعلیم کے مطابق یہ کارروائی آرڈر نمبر DSE/ES&HS/A-II/1580/2025-26 کے تحت عمل میں لائی گئی۔
حامد میر کا موقف
صحافی حامد میر نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر خاتون کے خلاف فراڈ کے الزامات درست ہیں تو معاملے کی تحقیقات صرف خاتون تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اس عمل میں ملوث دیگر افراد اور اداروں کا بھی تعین کیا جانا چاہیے۔
اگر یہ خاتون فراڈ ہے تو اس فراڈ میں ایک فرد یا ادارہ ملوث نہیں بہت سے ادارے اور افراد ملوث ہیں ان سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے 1995 میں فراڈ کا آغاز ہوا لیکن ابھی تک چل رہا ہے https://t.co/K88BmtQdlm
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) September 10, 2026
حامد میر کے مطابق اگر 1995 میں جعلی دستاویزات کے ذریعے یہ معاملہ شروع ہوا تھا تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ اتنے طویل عرصے تک متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی۔
سنجے سادھوانی کا دعویٰ
نجی ٹی وی کے رپورٹر سنجے سادھوانی نے حامد میر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ خاتون کا معاملہ عدالت میں بھی زیر بحث رہا اور وہاں ان کے مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے۔ ان کے مطابق خاتون نے عدالت میں سرکار سے تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم محکمہ تعلیم نے عدالت کے سامنے ان کے خلاف اپنے شواہد پیش کیے، جس کے بعد محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
یہ خاتون ایک بڑا فراڈ ہے، یہ خاتون عدالت میں جھوٹی ثابت ہوئی وہان سے راہ فرار کی، اسی خاتون نے عدالت میں سرکار سے تنخواہ کلیم کی ۔ محکمے نے عدالت ثابت کیا یہ خاتون جھوٹی ہے پھر اسے نوکری سے نکالا گیا ۔ 1995 میں یہ جعلی دستاویزات پر بھرتی ہوئی ۔ https://t.co/l2IGfryHUU pic.twitter.com/XoX7e9Y5Y9
— Sanjay Sadhwani (@sanjaysadhwani2) September 10, 2026
سنجے سادھوانی نے اسے ایک بڑے فراڈ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سندھ میں جعلی بھرتیوں پر سوالات
شہناز کے خلاف محکمانہ کارروائی اور انکوائری کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سندھ میں سرکاری بھرتیوں کے دوران تعلیمی اسناد اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اگر سرکاری ریکارڈ کے مطابق جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کسی شخص کو ملازمت ملی اور اسے طویل عرصے تک تنخواہ یا دیگر مالی فوائد حاصل ہوتے رہے تو اس امر کی بھی تحقیقات اہم ہیں کہ بھرتی کے وقت دستاویزات کی جانچ پڑتال کس سطح پر ہوئی اور ذمہ دار اہلکاروں نے تصدیق کا عمل کیسے مکمل کیا۔
محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ شہناز کے خلاف کارروائی تمام قانونی اور محکمانہ تقاضے پورے کرنے کے بعد کی گئی ہے۔ محکمہ شفافیت، قانون کی پاسداری اور مقررہ اصولوں کے مطابق کارروائی کا پابند ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف جعلی دستاویزات کے استعمال کے الزامات بلکہ سرکاری بھرتیوں کے نظام میں تصدیق کے عمل اور ممکنہ سہولت کاری کی تحقیقات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








