ہفتہ وار تعطیل کے بعد کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان غالب رہا اور ٹریڈنگ کے اختتام پر مارکیٹ دباؤ کا شکار نظر آئی۔ اس دوران بینچ مارک KSE-100 انڈیکس میں 1100 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ بند ہونے پر 100انڈیکس 178,414 پوائنٹس کی سطح پر آ کر ٹھہرا جو مجموعی طور پر 1,156 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
پیر کے روز اسٹاک مارکیٹ میں مختلف اہم شعبوں میں نمایاں فروخت دیکھی گئی جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) اور پاور جنریشن سیکٹرز شامل تھے جہاں سرمایہ کاروں نے بھرپور انداز میں شیئرز فروخت کیے۔
مارکیٹ پر دباؤ بڑھانے والے بڑے اسٹاکس میں نیشنل بینک (NBP)، او جی ڈی سی (OGDC)، ماری انرجیز، پی پی ایل اور حبکو شامل رہے، جو دن کے اختتام پر منفی زون میں بند ہوئے اور مجموعی انڈیکس پر اثرانداز رہے۔
مندی کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اپنے حالیہ مختصر تین روزہ کاروباری ہفتے کے دوران مجموعی طور پر مثبت کارکردگی برقرار رکھی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی، مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں سرمایہ کار دوست ترامیم اور ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی شامل رہیں۔
ہفتہ وار مارکیٹ رپورٹ کے مطابق KSE-100 انڈیکس مجموعی طور پر 648.50 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کے اضافے کے ساتھ 179,571.27 پوائنٹس پر بند ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








