افغان شہریوں کے لیے مزید مشکلات! 10 جولائی سے گرفتاری اور ملک بدری کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ یواین ایچ سی آر)

وفاقی وزارتِ داخلہ نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت 10 جولائی سے بغیر درست ویزا پاکستان میں موجود افغان شہریوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی انتظامیہ جبکہ اسلام آباد کے چیف کمشنر کو بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ 1 جون کو ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں طے پانے والے اقدامات کا تسلسل ہے جو غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت منعقد ہوا تھا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس میں تمام صوبائی حکومتوں، خصوصی علاقوں کی انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ افغان شہریوں کی واپسی اور ملک بدری کے عمل کو تیز کریں خصوصاً ایسے افراد جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے جبکہ IFRP پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

وزارتِ داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ 10 جولائی 2026 کے بعد پاکستان میں بغیر درست ویزا رہائش پذیر کسی بھی افغان شہری کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس حوالے سے مزید ہدایت دی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان احکامات پر مکمل، یکساں اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ کو تفصیلی رپورٹ ارسال کرنا لازمی ہوگا جس میں یہ بتایا جائے گا کہ کتنے افغان شہری بغیر ویزا کے پائے گئے ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور ان کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔ یہ رپورٹس 11 جولائی 2026 سے روزانہ بنیادوں پر بھجوائی جائیں گی۔

وزارت نے اس معاملے کو انتہائی ترجیح دینے اور تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان شہری جنگوں اور عدم استحکام کے باعث پاکستان منتقل ہوئے جبکہ 2021 میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھی بڑی تعداد میں افراد نے پاکستان کا رخ کیا۔

2023 میں شروع ہونے والی ملک بدری مہم کو گزشتہ سال اپریل میں دوبارہ تیز کیا گیا جب حکومت نے افغان شہریوں کے لاکھوں رہائشی اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے یا گرفتاری کے انتباہات جاری کیے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ایک ہی برس میں 10 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 11 لاکھ 55 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی واپسی عمل میں لائی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے 163,429 افراد، افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز 74,943، غیر دستاویزی 509,671 افراد اور 407,178 رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افراد اس عمل کا حصہ بنے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق 2026 کے آغاز میں واپسی کے عمل میں مزید تیزی آئی ہے اور فروری تک تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس اپنے ملک پہنچ چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 54 لاکھ سے زائد افغان شہری دونوں ممالک سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

Related Posts