کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی صدارت میں اہم اجلاس ہوگا جس کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اہم اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور اشاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث مرکزی بینک محتاط پالیسی اپناسکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز نے ایک حالیہ سروے میں انکشاف کیا کہ 97فیصد معاشی ماہرین یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، صرف 3 فیصد افراد کو 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع ہے۔
ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ زیادہ تر معاشی اشارئیے بہتری کی سمت گامزن ہیں، مالی سال 2026 میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 136ملین ڈالرز تک محدود رکھنا ہدف کے مطابق قرار دیا جارہا ہے جبکہ خسارے کی بڑی وجہ تجارتی سرگرمیاں اور اشیائے ضروریہ کی درآمدات ہیں۔
غیر ملکی قرضوں کی بھاری ادائیگی کے باوجود جون 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالرز کے ہدف تک برقرار رہے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 41 اعشاریہ 6ارب ڈالرز کی خطیر رقم پاکستان بھیجی جس سے ملکی معیشت کو قوی سہارا ملا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








