حکومت ختم؟ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ! چیئرمین پی ٹی آئی نے حقیقت کھول دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی مداخلت کے باعث خیبرپختونخوا حکومت کی عمل داری کمزور ہوچکی ہے اور صوبے میں عملاً گورنر راج جیسی صورت حال ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں، بلکہ ایسے اقدامات بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے پر تمام فریق متفق ہیں تاہم حکمت عملی پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے 9 ارکان صوبائی اسمبلی، جن میں 3 وزرا بھی شامل ہیں، اور 8 ارکان قومی اسمبلی کو بھی اٹھایا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے باہمی مشاورت سے مسائل حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اور موثر حکمت عملی ضروری ہے۔

Related Posts