شہر قائد کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جہاں دوسرے روز بھی رات گئے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ طویل دورانیے کی بجلی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیے جانے والے علاقوں میں بھی بجلی کی بندش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں، بشمول لائنز ایریا، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور قائد آباد میں کئی گھنٹوں تک بجلی بند رہی۔ اسی طرح حب، ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی، نیو کراچی، لیاری، گلشن اقبال، ہاکس بے اور موسیٰ کالونی سمیت دیگر علاقوں میں بھی رات کے اوقات میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق صدر، کلفٹن، ڈی ایچ اے، کورنگی، لیاقت آباد، نارتھ کراچی اور نارتھ ناظم آباد کے رہائشی علاقے بھی بجلی کی بندش سے متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ ملیر، لانڈھی، سائٹ ایریا، بلدیہ، گلستان جوہر، گلشن حدید، اسکیم 33، اولڈ سٹی ایریا اور رزاق آباد میں بھی شہریوں کو بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی بند
شہر میں بجلی کی طلب اور نظام پر دباؤ کے باعث متعدد گرڈ اسٹیشنز کے فیڈرز بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ مینجمنٹ کے تحت ایسے علاقوں میں بھی مرحلہ وار بجلی بند کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو معمول کے مطابق لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ دو گھنٹے تک پہنچ گیا جس سے شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹیں، کے الیکٹرک کا موقف
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتِ حال میں شام اور رات کے اوقات میں بجلی کی طلب بڑھنے پر لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ سکتی ہے۔
Power Supply Situation in KE’s Service Territory:
Due to a nationwide RLNG constraint stemming from international supply disruptions and delayed cargoes – affecting generation across the country including KE’s territory – KE may need to undertake load management as an extreme, last-resort measure during evening/night peak hours, if necessitated. Daytime supply will remain largely stable.
KE is in close coordination with PLL and relevant authorities and making all efforts for early normalisation. We sincerely apologise for the inconvenience.
@KElectricPk
— Imran Rana, Spokesperson, K-Electric (@imranrana21) October 9, 2026
ترجمان عمران رانا نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ عالمی سطح پر سپلائی میں تعطل اور گیس بردار جہازوں کی آمد میں تاخیر کے باعث آر ایل این جی کی دستیابی محدود ہوئی ہے، جس کے اثرات ملک بھر میں بجلی کی پیداوار پر پڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہنے کی توقع ہے، تاہم شام اور رات کے دوران طلب میں اضافے کی صورت میں لوڈ مینجمنٹ کو آخری اقدام کے طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے۔
بجلی کی طلب کے اوقات بھی واضح کر دیے گئے
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق اپریل سے اکتوبر تک بجلی کی زیادہ طلب کے اوقات شام 6 بج کر 30 منٹ سے رات 10 بج کر 30 منٹ تک ہوتے ہیں جبکہ نومبر سے مارچ کے دوران یہ دورانیہ شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک رہتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ گیس کی فراہمی سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں اور بجلی کی صورتِ حال کو جلد معمول پر لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








