چینی شہریوں کی حفاظت

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

پاکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والا حالیہ حملہ بلوچستان سے کراچی تک اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں تھا۔اس سے قبل بھی متعدد چینی شہریوں پر حملہ کیا گیا ہے اور کئی واقعات میں حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

بدھ کو کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والے حملے میں ایک چینی شہری کو گولی مار کر ہلاک اور دو دیگر کو زخمی کر دیا گیا جب ایک نامعلوم حملہ آور نے ڈینٹل کلینک کے اندر جاکر فائرنگ کی، یہ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خلاف اکسائے جانے والے سیاہ ایجنڈے کی ایک اور مثال ہے۔

ان حملوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے، اس سال چینی شہریوں کو پاکستان مخالف عناصر نے مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر حملہ، جس کی گونج پورے ملک میں سنائی دی تھی اور جس نے عوام کو صدمے میں ڈال دیا تھا وہ مئی میں کراچی یونیورسٹی میں ہونے والا ہولناک خودکش حملہ ہے۔لیکن اس سال چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے کئی دیگر واقعات ہوئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ چینی باشندوں اور سی پیک میں شامل افراد کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مئی میں پہلے حملے کے بعد، چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے بیانات جاری کیے کہ چین اور پاکستان دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے بیرونی عناصر کی جانب سے کی جانے دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور چینی شہریوں پر حملے کے حوالے سے دونوں ممالک اس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کریں گے۔

ان حملوں کا واحد مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ چینی شہریوں کو نشانہ بنانے اور ملک کی ترقی میں خلل ڈالنے کی یہ مسلسل کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کی ترقی میں خلل ڈالنے اور تعلقات کو نقصان پہنچانے کا ایک بڑا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

حکام کو اس حوالے سے سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے یہ غیر ریاستی عناصر CPEC کو سبوتاژ کرنے اور ملک کے استحکام اور امن کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں بہتر سیکیورٹی کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی کا مطلب صرف پاکستان میں موجود غیر ملکی باشندوں کے ارد گرد جسمانی محافظ دستے نہیں ہیں، بلکہ بہتر انٹیلی جنس اکٹھا کرنا اور شہری مراکز سے سلیپر سیلز کو ختم کرنے پر کام کرنا ہے۔

Related Posts