سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان کے ملزم کو 12سال بعد بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں ملزم عبدالرزاق کی بریت کی اپیل منظور کی اور 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی تحریر کیا جس میں واضح کیا گیا کہ فریقین کے مابین زمین کا تنازعہ تھا۔ملزم سے 3 لاکھ روپے کی ریکوری کی گئی جو مشکوک ہے۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ سمیت کوئی بھی اغوا کا عینی شاہد نہیں ہے۔ ملزم سے تاوان کے نام پر جو رقم ریکور کی گئی، اس پر کوئی نشانی موجود نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 4ملزمان کو عمر قید اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی سنایا۔
لاہور ہائیکورٹ نے 3 ملزمان کو بری کیا جبکہ ایک ملزم عبدالرزاق کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔ ملزمان کے خلاف 2014 میں نارووال میں اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بریت کا فیصلہ 2014 کے 12 سال بعد 2026 کے دوران سنایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








