کیا ماں کے رحم میں موجود بچہ اذان دے سکتا ہے یا قرآن پاک کی تلاوت کر سکتا ہے؟ 1970 میں انڈونیشیا کی ایک نوجوان خاتون کے اسی حیران کن دعوے نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں ہزاروں افراد مبینہ معجزہ سننے کے لیے امڈ آئے، مگر تقریباً ڈیڑھ سال بعد جب حقیقت سامنے آئی تو یہ دعویٰ ایک بڑے فریب میں تبدیل ہو چکا تھا۔
1970 میں انڈونیشیا کی 23 سالہ کٹ زَہرہ فونا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے رحم میں موجود بچہ اذان دیتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے اور دو سالہ حمل کے بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوگا اور وہ امام مہدی ہوگا۔ اس دعوے نے پاکستان، ملائیشیا، جاپان اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں غیرمعمولی سنسنی پھیلا دی، جبکہ لاہور کی بادشاہی مسجد سمیت مختلف مقامات پر ہزاروں افراد مبینہ معجزہ دیکھنے اور آواز سننے کے لیے جمع ہوتے رہے۔
انڈونیشیا میں ان کے دعوے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب بعض اعلیٰ حکومتی شخصیات، جن میں نائب صدر آدم ملک اور صدر سوہارتو بھی شامل تھے، اس پر یقین کرنے لگے۔ صدر سوہارتو کے ترجمان نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ صدر نے خود بھی بچے کی آواز سنی، جبکہ مذہبی اور سیاسی شخصیات بھی فونا سے ملاقاتیں کرتی رہیں۔
تاہم طبی ماہرین نے ابتدا ہی سے اس دعوے کو سائنسی طور پر ناممکن قرار دیا۔ جکارتہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ہرمن سوسیلو نے واضح کیا کہ رحم میں موجود بچہ نہ اس انداز میں سانس لے سکتا ہے اور نہ آواز پیدا کر سکتا ہے۔ اس مؤقف پر انہیں شدید مخالفت اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
بالآخر اکتوبر 1970 میں طبی معائنے سے یہ حقیقت سامنے آگئی کہ خاتون کے رحم میں کوئی بچہ موجود ہی نہیں تھا۔ اس انکشاف کے بعد فونا اور ان کے شوہر کو گرفتار کیا گیا، تاہم متعلقہ قانون نہ ہونے کے باعث بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد دونوں میاں بیوی منظر عام سے غائب ہوگئے، جبکہ جن اخبارات اور ریڈیو اسٹیشنوں نے ابتدا میں اس مبینہ معجزے کو نمایاں انداز میں نشر کیا تھا، بعد میں انہی میں سے بعض نے اسے ایک بڑا فریب قرار دیتے ہوئے حقیقت بھی سامنے لائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








