سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو والدہ سے آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔
بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے اپنے پیچھے ایک قابل ذکر سیاسی میراث چھوڑی، 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور وہ دو بار پاکستان کی وزیر اعظم رہیں اور 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں اپنے المناک قتل تک جمہوری اقدار کی پرجوش حمایت کرتی رہیں۔
1987 میں انہوں نے آصف علی زرداری سے شادی کی اور ان کے تین بچے ہیں- بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کی میراث کو آگے بڑھایا، آج ان کا خاندان ان کی سیاسی جماعت کی قیادت کر رہا ہے۔
حال ہی میں بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں والدہ بینظیر بھٹو سے آخری ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے جذباتی ہو گئیں۔
بختاور بھٹو نے کہا کہ میری سالگرہ قریب تھی اور میں ان کے جانے سے ایک رات پہلے ہی ان سے ملی تھی تو وہ کہنے لگیں کہ میں آپ کو پیشگی سالگرہ کی مبارکباد دینا چاہتی ہوں، جس پر میں نے جواب دیا، مجھے پہلے سے مبارکباد نہ دیں، مجھے جنوری کی مبارکباد دیں۔
انہوں نے کہا کہ والدہ کہنے لگیں کہ میں اب تمہیں مبارکباد دے رہی ہوں۔ ان کے جانے کے بعد 18ویں سالگرہ آئی تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ جیسے وہ تیار تھیں۔
بختاور بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ وہ مجھ سے کہتی رہیں، ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے تو میں نے کہا آپ مجھے اب کیوں بتا رہی ہیں؟ وہ کہنے لگیں ‘آپ اپنی سالگرہ کے لیے کیا چاہتی ہیں؟’ میں نے کہا، ‘میں چاہتی ہوں کہ آپ واپس آئیں۔’ انہوں نے جواب دیا میں اپنی پوری کوشش کروں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








