موبائل بھی ضبط! 81 ہزار درہم کا جرمانہ بھی! ریسٹورنٹ پر بلاوجہ تنقید بھاری پڑ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

متحدہ عرب امارات کی عدالت نے ایک خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کو معروف ریسٹورنٹ کے خلاف ویڈیو پوسٹ کرنے پر ہتک عزت کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 81 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ابوظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مذکورہ خاتون نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی جس میں اس نے ریسٹورنٹ کے مالک کی ساکھ، دیانت داری اور کاروباری طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔

ریسٹورنٹ کی مالک نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس ویڈیو سے ان کی ذاتی اور کاروباری شہرت کو شدید نقصان پہنچا ہے جسکے باعث قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی۔

تحقیقات کے دوران خاتون نے ویڈیو بنانے اور اسے شیئر کرنے کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد صرف تنقید کرنا تھا۔ عدالت نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ویڈیو میں صرف خدمات یا مصنوعات پر رائے دینے کے بجائے مخصوص افراد کو نشانہ بنایا گیا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے جسے ہتک عزت کے زمرے میں شمار کیا گیا۔

عدالت نے خاتون کو 30 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنے، متنازع ویڈیو فوری طور پر حذف کرنے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹ کی مالک کو عارضی ہرجانے کی مد میں 51 ہزار درہم ادا کرنے کی ہدایت بھی کی گئی جس کے بعد مجموعی مالی سزا 81 ہزار درہم تک پہنچ گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صارفین کو مصنوعات اور خدمات کے بارے میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے لیکن کسی فرد کی شہرت کو نقصان پہنچانے، بغیر ثبوت الزامات لگانے یا ذاتی کردار پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پر ہتک عزت، توہین آمیز مواد پھیلانے اور جھوٹی یا گمراہ کن معلومات شیئر کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ سائبر کرائم قانون کے تحت بعض معاملات میں 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ جھوٹی معلومات پھیلانے پر قید کی سزا بھی ممکن ہے۔

Related Posts