ایران جنگ : حملوں کا تدارک کیسے ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی ایران پر مسلط شدہ جنگ آج ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور اس وقت محسوس یہی ہوتا ہے کہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں خود کو کسی حد تک مکمل طور پر پھنسا چکا ہے۔

اس کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے براہِ راست رابطے کیے اور بعد ازاں انہیں یہ پیغام بھی دیا کہ اگر آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکا کا ساتھ نہ دیا گیا تو اس کے اثرات نیٹو کے لیے بھی اچھے نہیں ہوں گے۔ تاہم اب تک کسی نیٹو ملک نے اپنی بحری قوت اس خطے میں بھیجنے کی زحمت نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی سمجھی جاتی ہے کہ یورپی ممالک اس جنگ میں براہِ راست فریق بننے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، اس کے برعکس کہ گلف وار 2جو 2003 میں ہوئی، عراق کے خلاف تمام نیٹو ممالک سے مشاورت کی گئی اور سلامتی کونسل سے قرارداد بھی منظور کرائی گئی، لیکن ایران کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کسی بھی اتحادی سے کوئی مشورہ نہیں کیا، اور یہی وجہ ہے جس کی بناء پرنیٹو ممالک بھی اپنی بحریہ نہ بھیج کر امریکا کا ساتھ دینے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ جنگ اپنے سترہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس تنازعے نے صرف چند علاقوں تک محدود رہنے کے بجائے ایک درجن سے زیادہ ممالک کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی رسد کو بند کرکے دنیا کو ایک معاشی ہلچل سے دوچار کردیا ہے۔

آزاد ادارہ آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا(اے سی ایل ای ڈی) کے مطابق ایران کے 31 میں سے کم از کم 29 صوبوں میں تقریباً دو ہزار کے قریب جنگی واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تہران کو سب سے زیادہ بمباری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان واقعات میں فضائی حملے، ڈرون حملے ،میزائل فائرنگ ، بمباری اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی زیادہ تر اور ظاہراً ایران کے میزائل انفراسٹرکچر، عسکری مراکز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جن میں تہران کے تیل کے ذخائر اور خلیج فارس میں واقع خارگ آئی لینڈ کی بندرگاہ شامل ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔مگر جنگ کے انسانی اثرات بھی نہایت سنگین ہیں، جہاں 54 ہزار رہائشی عمارات کو بھی  نقصان پہنچایا گیا ، جس میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق کم از کم اٹھارہ ہسپتال اور طبی مراکز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ متعدد اسکول اور رہائشی علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے ہولناک واقعہ جنوب مشرقی شہر میناب میں پیش آیا جہاں ایک گرلز پرائمری اسکول پر حملے میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں جن کا ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی سپریم لیڈر کی لڑائی میں کوئی کردار بھی نہیں تھا۔

ایران نے جواباً اسرائیل کے مختلف فوجی اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں، آئل ریفائنریز، ہوائی اڈوں اور تجارتی بحری جہازوں  کے ساتھ ساتھ جن جن علاقوں میں  امریکی رہائش پذیر تھے، ان علاقوں پر بھی حملے کیے گئے۔  ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی مالیاتی اداروں اور بعض بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بھی عسکری کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں ، اور خاص طور پر جنوبی شہر خیام کے اطراف میں محدود زمینی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے کئی قصبوں پر حملے کیے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور اسے کسی ایک محاذ تک محدود رکھنا اب آسان نہیں رہا۔

ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھرپور توجہ دی۔ اس کی بڑی عسکری تنصیبات اور پیداوار کا ایک حصہ زیرِ زمین منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ جون 2025 میں اسرائیلی حملوں کے بعد بھی ایران نے اپنی دفاعی پیداوار چوبیس گھنٹے جاری رکھی اور میزائلوں کی بڑی تعداد تیار کر لی۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر ایرانی قیادت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ اسرائیل جیسی طاقت کے ساتھ چھ ماہ کی طویل مدت تک جنگ جاری رکھ سکتی ہے۔حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک نے اس بحران میں نسبتاً محتاط حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ ماضی میں جب انہوں نے امریکا کو فوجی اڈے فراہم کیے تو شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ عالمی سیاست اس قدر پیچیدہ رخ اختیار کر لے گی۔ اس وقت خطے کے بیشتر ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ وہ براہِ راست جنگ کا حصہ نہ بنیں۔بلاشبہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں، تاہم ایران ایک قدیم قوم اور ریاست ہے جس نے گزشتہ تقریباً نصف صدی کے دوران پابندیوں کے باوجود خود انحصاری کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی نہ کسی سفارتی راستے کی تلاش کی جائے۔ خلیجی ممالک اور خطے کی ایک اہم سفارتی قوت کے طور پر پاکستان اس حوالے سے کردار ادا کر سکتا ہے ، کیونکہ  اگر کوئی باعزت راستہ تلاش نہ کیا گیا تو یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک طویل اور خطرناک بحران بن سکتی ہے۔

Related Posts