کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں تحقیقاتی ٹیم کی تبدیلی کے بعد اعلیٰ تفتیشی کمیٹی ایک بار پھر جائے وقوعہ پر پہنچی اور شواہد کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔ تاہم کیس کی تفتیش تاحال کسی اہم نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔
تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی میر رضا کے ممکنہ قتل کے مختلف پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے۔ سیکریٹری کمیٹی ایس ایس پی علی رضا کی سربراہی میں اراکین نے آج بھی کرائم سین کا جائزہ لیا اور سیکریٹری سمیت دیگر اراکین نے جائے وقوعہ پر مختلف شواہد کی جانچ پڑتال کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کیس کی تحقیقات میں مختلف پہلوؤں سے شواہد کو از سر نو جانچ پڑتال کے عمل سے گزار رہی ہے۔ اس سے قبل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کمیٹی میں تبدیلی کی گئی تھی اور اب شواہد دوبارہ جائزے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
قبل ازیں قتل کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی وصول کرلیا تھا۔ محکمہ داخلہ نے کمیشن کی جانب سے ٹی او آرز کو بھی نوٹیفکیشن کا حصہ بنایا تھا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن کو میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق اور واقعے کے تمام حالات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ تحقیقات کی غیر جانبداری اور قانون کے مطابق ہونے کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور پولیس، ایم ایل او یا کسی سرکاری اہلکار کی غفلت پر بھی تفتیش کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








