یورپی یونین سے انخلاء: برطانوی عوام کی خواہش پوری ہوگئی

نصف صدی کے بعد برطانیہ بالآخر یورپی یونین سے باہر ہو گیاہے، یونین جیک کو برسلز میں واقع صدر دفتر سے ہٹا دیا گیا ہے۔ برطانیہ پہلا رکن بن گیا جس نے ایک ایسی تنظیم چھوڑ دی تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اتحاد کو فروغ دینے ، اور سامان ، رقم اور افرادی قوت کی آزادانہ نقل و حرکت کے ذریعے عالمگیریت کو بڑھانے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ اب برطانیہ نے یورپ سے باہر مستقبل کی شروعات کی ہے۔

قانونی طور پر اب برطانیہ یورپی یونین سے باہر ہے اور بریگزٹ معاہدے کے طور پر 11ماہمیں آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا پابند ہے تاہم 11 ماہ تک برطانوی شہری یورپی یونین میں کام کرنے اور آزادانہ طور پر تجارت کرنے کے اہل ہوں گے ۔

موجودہ صورتحال میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن انتہائی خوش ومسرور دکھائی دیتے ہیں ، برطانیہ نے بریگزٹ کیلئے دو وزراء اعظم کی قربانی دی اور بالآخر بورس جانسن نے بریگزٹ کا دیرینہ مطالبہ پورا کرکے برطانوی عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔

قوم سے خطاب میں وزیر اعظم بورس جانسن نے اعتراف کیا کہ یہ کوئی انجام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ انہوں نے اس دوستانہ تعاون کے ایک نئے دور کی تعریف کی جبکہ انہوں نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیںکیونکہ غیر یقینی صورتحال کی فضا ابھی بھی عروج پر ہے تاہم سیاسی کشمکش اور کشمکش ختم ہوچکی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یورپ کی ضرورت نہیں ہےبرطانیہ اپنی معاملات خود چلا سکتا ہے۔

یورپین یونین کے اب بھی 3.6 ملین شہری برطانیہ میں مقیم ہیں ۔یہ تووقت گزرنے کے ساتھ ہی معلوم ہوگا کیونکہ برطانیہ اپنے لئے ایک نئی راہ کھڑا کر رہا ہے ، لیکن جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ بریگزٹ نے برطانوی معاشرے میں پائی جانے والی گہری تقسیم اور یورپی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں خلیج کو نمایاں کردیا ہے۔

برطانیہ یورپی یونین کے اہم رکن کی حیثیت رکھتا تھا اور یورپی ممالک کی معیشت کا بڑا مرکز لندن سمجھا جاتا تھا ۔برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں کیونکہ دونوں فریقوں کو مستقبل کے تعلقات اورایک تجارتی معاہدے پر بات چیت کرنا ہوگی جس کے بعد مستقبل کا انحصار ہوگا۔

برطانیہ اب پوری دنیا میں تجارتی سودوں کے لئے آزاد ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریگزٹ کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ جانسن اور ٹرمپ دونوں نے دو بڑی معیشتوں کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔

کچھ حلقوں کا کی جانب سے بریگزٹ کو برطانیہ کی معیشت کیلئے مضر قرار دیا جارہاہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ 11 ماہ بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان ہونیوالے معاہدے سے برطانیہ کے عوام کو فائدہ ہوگا یا بریگزٹ برطانیہ کی معیشت کونقصان پہنچائے گا۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں