کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی جس کی بڑی وجہ امریکا سے سامنے آنے والے کمزور معاشی اعداد و شمار اور اکتوبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات میں کمی بتائی جارہی ہے۔
تازہ معاشی اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ ایک مرتبہ پھر سونے کی جانب بڑھ گئی جسے شرح سود سے منافع نہ دینے کے باوجود غیر یقینی معاشی حالات میں نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 158.17 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ دسمبر میں ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 0.6 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 186.40 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں شرح سود سے متعلق توقعات عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں جبکہ معاشی اعداد و شمار میں کمزوری کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی طلب میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسپاٹ سلور کی قیمت 1.7 فیصد اضافے کے بعد 61.40 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
پلاٹینم کی قیمت 0.6 فیصد بڑھ کر 1 ہزار 708.48 ڈالر فی اونس جبکہ پیلاڈیم کی قیمت بھی 0.6 فیصد اضافے کے بعد 1 ہزار 175.04 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








