پاکپتن کے اسپتال میں 20 نومولود بچوں کی اموات! ذمہ دار کوئی نہیں؟ عدالت کا فیصلہ آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں آکسیجن کی عدم دستیابی اور مبینہ طبی غفلت کے باعث بیس بچوں کی ہلاکت کے مقدمے کا فیصلہ عدالت کی جانب سے سنا دیا گیا ہے۔ عدالت نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ عدنان غفار کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

فیصلے کی بنیادی وجوہات بیان کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ اس اندوہناک واقعے میں بچوں کے پوسٹ مارٹم اور طبی ماہرین کی حتمی رائے ریکارڈ پر موجود نہیں تھی جو کہ جرم ثابت کرنے کے لیے ناگزیر تھی۔

اس کے علاوہ قانون کے مطابق کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے قبل پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی باضابطہ سفارش لازمی ہوتی ہے مگر اس معاملے میں اس قانونی تقاضے کو پورا نہیں کیا گیا تھا جس کی بنا پر دونوں افسران کو بری کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بچوں کی یہ پراسرار اموات اور غفلت کا یہ سارا معاملہ پانچ جولائی 2025 کو اس وقت سامنے آیا تھا جب وزیراعلیٰ پنجاب نے اسپتال کا اچانک دورہ کیا۔

اس موقع پر شہریوں نے وزیر اعلیٰ کو اسپتال میں انتظامی غفلت اور انتظامات کی ابتری کے بارے میں شدید شکایات کیں جس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے موقع پر ہی دونوں ملزمان کو حراست میں لینے کا حکم دے دیا تھا۔

Related Posts