پاکستان نے سرکاری ذخائر میں موجود اضافی چینی بیرونِ ملک فروخت کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے مجموعی طور پر 107,739 میٹرک ٹن سفید ریفائنڈ چینی کی فروخت اور برآمد کیلئے پیشکشیں طلب کی گئی ہیں۔
یورپی تاجروں کے مطابق ٹینڈر میں قیمت کی پیشکشیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 28 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
یہ اقدام اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی 20 اگست کو دی گئی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹی سی پی کے پاس موجود 108,000 ٹن اضافی چینی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق موجودہ ذخیرہ گزشتہ سال درآمد کی گئی 3 لاکھ ٹن چینی کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ یہ چینی وفاقی کابینہ کی منظوری سے قائم کردہ شوگر سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارش پر درآمد کی گئی تھی۔ ٹینڈر کا عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2004 کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن بھی حکومت سے اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ ذخائر اور کم قیمتوں کے باعث شوگر ملز اور گنے کے کاشتکار مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے 13 اگست کو وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین کو اپنے تیسرے خط میں خبردار کیا تھا کہ آئندہ کرشنگ سیزن سے قبل صنعت کو نقدی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے اضافی ذخائر کی برآمد کی فوری اجازت دینے کی درخواست بھی کی تھی۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی تک ملک میں چینی کا مجموعی ذخیرہ 31 لاکھ 71 ہزار ٹن تھا۔ ماہانہ اوسط کھپت 5 لاکھ 64 ہزار 196 ٹن کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ایم اے نے اندازہ لگایا کہ 15 نومبر تک ساڑھے تین ماہ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 19 لاکھ 74 ہزار ٹن چینی درکار ہوگی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق نئے کرشنگ سیزن کے آغاز پر تقریباً 11 لاکھ 97 ہزار ٹن چینی اضافی بچ سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے ذخائر میں کمی لانے کے ساتھ شوگر انڈسٹری میں مالیاتی دباؤ کم کرنے اور نقدی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ٹی سی پی کی جانب سے جاری کردہ موجودہ ٹینڈر کا تعلق ملکی شوگر انڈسٹری کے مجموعی اضافی ذخیرے سے نہیں بلکہ حکومت کے پاس موجود گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی کے مخصوص ذخیرے سے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








