اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں انسانیت کے لیے سنگین اور وجودی خطرات پیدا کرسکتی ہے جس کے پیش نظر انہوں نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی حفاظت اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت سے متعلق صنعت کے اندر موجود ماہرین کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اے آئی کے طاقتور نظام اگر ناکام ہوئے یا ان کا غلط استعمال ہوا تو اہم بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام اور جمہوری ادارے متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایسے مضبوط حفاظتی ضوابط وضع کیے جائیں جن پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں موثر حفاظتی ضمانتیں قائم کرنے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
وولکر ترک نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں انتہائی طاقت چند افراد اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وہ ممالک جہاں اے آئی ٹیکنالوجی تیار کی جاتی ہے اور اس کی سپلائی چین سے وابستہ ہیں، انہیں مل کر واضح حدود اور حفاظتی اصول طے کرنے چاہئیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض جدید اے آئی نظاموں کی صلاحیتیں حفاظتی اقدامات کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جو مستقبل کے لیے باعث تشویش ہے۔
خودکار ڈرونز پر بھی شدید تشویش
وولکر ترک نے یوکرین میں روس کی جانب سے مبینہ طور پر مکمل خودکار ڈرونز کے استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھیار جو انسانی مداخلت کے بغیر انسانی جان لے سکتے ہوں، ان پر فوری پابندی عائد کرنے کی عالمی سطح پر کوشش ہونی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگست میں خودکار ڈرونز کے ذریعے تین افراد کی ہلاکت سے متعلق رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
امریکی امیگریشن حراست میں ہلاکتوں پر تشویش
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے امریکا میں امیگریشن حراست کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق رواں سال اب تک تقریباً 23 افراد امریکی امیگریشن حراست میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
انہوں نے حراستی مراکز میں تعینات اہلکاروں کو بجلی کے جھٹکے دینے والے دستانوں سے لیس کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی پر بھی تشویش ظاہر کی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حراستی مراکز میں محفوظ، پُرامن اور انسانی ماحول کو یقینی بنانا اس کی ترجیح ہے جبکہ اس کا انسپکٹر جنرل اکتوبر 2021 سے حراست کے دوران ہونے والی اموات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتے تنازعات پر بھی اظہار تشویش
وولکر ترک نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملوں میں شدت اور ایران میں پھانسیوں کی بڑھتی تعداد پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے دنیا بھر میں جاری تنازعات کو ہوا دینے والے کاروباری اور معاشی مفادات پر مزید کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ان عناصر کو بے نقاب کرنے اور ان سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا جو دنیا میں جاری تنازعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا موجودہ اجلاس 7 اکتوبر تک جاری رہے گا جس میں ایران جنگ، سوڈان کی خانہ جنگی سمیت مختلف عالمی بحرانوں پر غور کیا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








