امریکا کی دو ریاستوں جارجیا اور پنسلوانیا میں چند گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق دونوں واقعات جمعے کی شام پیش آئے جبکہ پنسلوانیا میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے، ایک حاملہ خاتون اور مبینہ حملہ آور بھی شامل ہیں۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ریاست جارجیا کے شہر ڈگلس میں ایک گھر پر فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے گئے۔ مقامی پولیس نے ہفتے کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کی رات فائرنگ کی اطلاع ملنے پر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والے پانچ افراد دم توڑ چکے تھے۔پولیس نے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پنسلوانیا میں رہائشی مکان پر فائرنگ، 9 افراد ہلاک
دوسرا واقعہ ریاست پنسلوانیا کے شہر ایری کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون شامل ہیں جبکہ مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا۔
ایری پولیس کے سربراہ رک لوراہ کے مطابق فائرنگ کرنے والا 45 سالہ شخص ہلاک ہونے والے سات افراد کا رشتہ دار تھا جبکہ ایک اور مقتول کا حاملہ خاتون سے دوستانہ تعلق تھا۔
تفتیش کاروں کو حاصل ہونے والی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق دو خواتین شدید پریشانی کی حالت میں شام پانچ بجے سے کچھ دیر پہلے مکان پر پہنچیں اور دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا۔ پولیس سربراہ کے مطابق مسلح شخص گھر سے باہر آیا دونوں خواتین پر فائرنگ کی اور پھر واپس مکان کے اندر چلا گیا۔
پولیس اہلکار جب موقع پر پہنچے تو دونوں خواتین کی لاشیں گھر کے باہر موجود تھیں۔ مکان کے اندر سے ایک پانچ سالہ لڑکے، ایک سالہ بچی، دو مزید خواتین، دو نوجوان مردوں اور مشتبہ حملہ آور کی لاشیں ملیں۔
واقعے سے متعلق تحقیقات جاری
پولیس چیف رک لوراہ نے فائرنگ کے محرکات کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کار مقتولین کے دیگر رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کریں گے اور گھر کے باہر ہلاک ہونے والی خواتین کے موبائل فونز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ان کے مطابق خواتین کو اس گھر میں جاری کسی غیر معمولی صورتحال کا علم تھا تاہم پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں کس معاملے کا خدشہ تھا۔
شہر کی انتظامیہ کے مطابق پولیس کو فائرنگ کی اطلاع شاٹ اسپاٹر نامی نظام کے ذریعے موصول ہوئی جس کے بعد اہلکار چند منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ یہ نظام مائیکروفونز کے نیٹ ورک اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ممکنہ فائرنگ کی آوازوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس کے استعمال پر تنازعات بھی موجود ہیں۔
حکام کے مطابق پولیس کی آمد سے پہلے ہی تمام نو افراد ہلاک ہو چکے تھے اور اہلکاروں کے پہنچنے کے بعد مزید فائرنگ نہیں ہوئی۔ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ کارروائی کے دوران سنائی دینے والی بعض دھماکے جیسی آوازیں فائرنگ کی نہیں بلکہ پولیس کے استعمال کردہ فلیش بینگ آلات کی تھیں۔
پولیس سربراہ کا اظہارِ افسوس
رک لوراہ نے ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ اپنے 28 سال سے زیادہ کے کیریئر میں انہوں نے اس نوعیت کا واقعہ نہیں دیکھا۔ ان کے بقول، شہر ایری نے شاید اس سے پہلے اتنے بڑے جانی نقصان اور تباہ کن صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا۔
پنسلوانیا کے گورنر جوش شپیرو نے بھی ایری کی میئر داریا ڈیولن کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت شہر کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ایری شہر پٹسبرگ سے تقریباً 190 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
دونوں واقعات نے امریکا میں آتشیں اسلحے کے ذریعے ہونے والے مہلک حملوں اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے تاہم دونوں واقعات کے محرکات کے بارے میں حکام کی جانب سے مکمل تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








