سہانے مستقبل کا خواب سمندر برد! ڈوبی ایک اور کشتی؛ خواتین و بچوں سمیت 109 ہلاک

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ وی او اے)

افریقی ملک جبوتی کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے المناک حادثے میں کم از کم 109 افراد ہلاک جبکہ 116 لاپتا ہو گئے تاہم 80 افراد کو بچا لیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ہجرت (آئی او ایم) کے مطابق اب تک ملنے والی لاشوں میں 52 مرد، 42 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں۔ حادثے میں زندہ بچنے والے تمام افراد ایتھوپیائی شہری ہیں۔

آئی او ایم نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ کشتی رات کے وقت یمن کی جانب سفر کے دوران جبوتی کے علاقے اوبوک کے قریب الٹ گئی۔ اندازہ ہے کہ اس کشتی میں تقریباً 350 افراد سوار تھے۔ حادثے میں زندہ بچنے والے تمام 80 افراد ایتھوپیائی شہری ہیں۔

جبوتی میں آئی او ایم کے مشن سربراہ الیگزینڈر کوئساک نے حادثے میں ہونے والے جانی نقصان کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ اس خطرناک راستے کی یاد دہانی ہے جس پر تارکین وطن معاشی مواقع کی تلاش میں سفر کرتے ہیں۔

ان کے مطابق تارکین وطن باب المندب کی آبنائے عبور کرکے یمن اور وہاں سے خلیجی ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ سفر ان کی جانوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ غربت، عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات لوگوں کو خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں، حالانکہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق جبوتی کے حکام لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ لاپتا افراد کے زندہ بچنے کے امکانات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

آئی او ایم کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران جبوتی سے یمن جانے والے تارکین وطن کی 20 ہزار سے زائد نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی۔ یمن اس وقت بھی شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اس سمندری راستے کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران 900 سے زائد تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ اس راستے پر سفر کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ایتھوپیا اور صومالیہ سے ہے۔

آئی او ایم نے عطیہ دہندگان اور شراکت دار اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جبوتی میں امدادی سرگرمیوں، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور زندگی بچانے والی سہولتوں کے لیے تعاون بڑھائیں۔

Related Posts