ایران امریکا جنگ بندی کے روشن امکانات، اسرائیل خوفزدہ کیوں ہوگیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیل
(فوٹو: رائٹرز)

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد اسرائیلی میڈیا میں سخت ردِعمل دیکھا گیا ہے۔ متعدد صحافیوں اور کالم نگاروں نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کے ساتھ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ایران کو خطے میں مزید سیاسی اور اسٹریٹجک برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی روزنامہ معاریو میں شائع ایک تجزیاتی مضمون میں مبصر بین کاسپٹ نے لکھا کہ اگرچہ وزیرِاعظم نیتن یاہو مختلف محاذوں پر کئی نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں، لیکن ایران کے حوالے سے وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی حکمت عملی میں انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

بین کاسپٹ کے مطابق حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والی عسکری کامیابیوں کے باوجود اصل نقصان ایک سیاسی نوعیت کی ناکامی کی صورت میں سامنے آیا، جو ان فوجی فتوحات کے فوراً بعد نمایاں ہوئی۔

اسی اخبار میں ایک اور کالم نگار آوی اشکنازی نے بھی مجوزہ معاہدے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کے مسودے اور اس کی شرائط پر کسی بھی قسم کا مؤثر اثر ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کے مطابق اس ناکامی کی بنیادی وجہ سیاسی قیادت کی کمزور حکمت عملی ہے، جس کے باعث اسرائیل مذاکرات کے عمل اور اس کے ممکنہ نتائج پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام ان مذاکرات کے نتائج پر اپنے محدود کردار اور اثر و رسوخ کے باعث سنجیدہ تشویش میں مبتلا ہیں۔اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی مذاکرات پر پوزیشن بہتر اور مضبوط رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایسے تزویراتی دباؤ کے ذرائع موجود تھے جنہوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں امریکا کو ایک طویل المدتی حکمت عملی کے بجائے فوری اور حالات کے مطابق اقدامات کرنا پڑے۔

Related Posts