ریاض ایئرپورٹ اچانک بند! 446 پروازیں منسوخ، آخر معاملہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سعودی حکام نے میزائل حملے کے بعد شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سکیورٹی خدشات کے باعث فضائی آپریشن عارضی طور پر  معطل کر دیا گیا ہے جبکہ پروازوں کی منسوخی اور دیگر ایئرپورٹس کی جانب رخ موڑنے کے باعث فضائی سفر کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔

حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹم کے مطابق ایئرپورٹ رات 9 بجے تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس دوران حملے کے نتیجے میں املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ایئرپورٹ کی بندش کے باعث ریاض آنے والی متعدد پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا جن میں دمام، جدہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔ پروازوں کی اچانک منتقلی کے باعث ان ہوائی اڈوں پر بھی فضائی آپریشن اور پروازوں کے اوقات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریاض ایئرپورٹ سے آج شیڈول کی گئی مجموعی طور پر 750 پروازوں میں سے 446 منسوخ کی جا چکی ہیں۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال متعلقہ ایئرلائن سے معلوم کر لیں تاکہ انہیں غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سعودی اتحاد کا جوابی کارروائی کا عزم

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے حملے کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

حوثیوں کا ایئرپورٹ بند کروانے کا دعویٰ

حوثی میڈیا کے سربراہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائی کے نتیجے میں ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کا آپریشن مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

حوثیوں کی جانب سے اس سے قبل مسافر طیاروں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی گئی تھی۔ دوسری طرف یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے پیر سے حوثیوں کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Related Posts