سعودی تیل 6 سال کی کم ترین سطح پر! شہباز حکومت عوام کو ریلیف دے گی یا ہوگا نیا بہانہ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی مارکیٹ سے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کے صارفین کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے نومبر کیلئے ایشیائی خریداروں کو فراہم کیے جانے والے خام تیل کی قیمتوں میں توقع سے کہیں زیادہ کمی کر دی ہے۔ اس کمی کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً چھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

اس عالمی پیشرفت نے جہاں ایک طرف دنیا بھر کے صارفین کو ریلیف کی نوید سنائی ہے وہیں پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا شہباز حکومت اس بین الاقوامی کمی کا فائدہ عام پاکستانی کو دے گی یا پھر ہر بار کی طرح ایران جنگ اور ملکی معیشت کا روایتی بہانہ بنا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا؟

ماہرین اور عوامی حلقوں کی طرف سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کے دام گرتے ہیں تو پاکستانی حکمران اس کا فوری فائدہ عوام تک منتقل کرنے سے ہمیشہ گریز کیوں کرتے ہیں؟

مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا موجودہ حکمران بین الاقوامی مارکیٹ کی اس سستائی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانے کی اخلاقی جرات دکھائیں گے یا ہمیشہ کی طرح آئی ایم ایف کے دباؤ اور نام نہاد اقتصادی بحران کی آڑ میں عوام کا استحصال جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر سپلائی کے تنازعات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے اپنے رکن ممالک کے لیے سال 2027 کے پیداواری کوٹے کا جائزہ لینے کا عمل فی الحال موخر کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے سے متعلق کئی اہم منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس غیر یقینی اور جنگی صورتحال نے مستقبل میں خطے کی پیداواری صلاحیت کے تخمینوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس کو حکومتیں اکثر اپنے عوام کو مہنگائی کا عذاب دینے کے لیے بطور ڈھال استعمال کرتی ہیں۔

Related Posts