کراچی میں سرکاری اسکول پر مبینہ قبضے کا معاملہ سامنے آگیا، بااثر افراد نے اساتذہ اور طلبہ کو اسکول سے باہر نکال کر عمارت کو تالے لگا دیے، جس کے باعث 600 سے زائد بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق ملیر سٹی کے علاقے داؤد گوٹھ میں واقع سرکاری اسکول میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب مبینہ طور پر بااثر افراد اسکول میں داخل ہوئے اور اساتذہ و طلبہ کو کلاس رومز سے باہر نکال دیا۔
اساتذہ کے مطابق مبینہ قابضین نے اسکول کی عمارت پر تالے لگا دیے اور دعویٰ کیا کہ اسکول کی زمین ان کے دادا کی ملکیت ہے۔ تاہم اساتذہ کا کہنا ہے کہ قبضہ کرنے والے افراد کی جانب سے زمین کی ملکیت سے متعلق کوئی قانونی نوٹس یا دستاویز انہیں پیش نہیں کی گئی۔
اساتذہ نے الزام عائد کیا کہ اسکول پر قبضے کے دوران ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور انہیں زبردستی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔
اسکول انتظامیہ کے مطابق مذکورہ ادارے میں تقریباً 600 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن کی تعلیم کا سلسلہ اچانک رک جانے سے ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اساتذہ نے حکومت سندھ اور وزیر تعلیم سے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسکول کی عمارت واگزار کرانے اور طلبہ کی تعلیم بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ تعلیم سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے معاملے کی مزید جانچ کے بعد آئندہ کارروائی متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








